برمنگھم ۔کرک اگین رپورٹ ۔
کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ۔ پاکستان کرکٹ تماشا،ایج باسٹن میں بھی بیٹنگ جنازہ،اب کیا بنے گا ۔
پاکستان کرکٹ کا تماشہ جاری ہے اور دنیائے کرکٹ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کو بری طرح ذلیل ہوتے دیکھ رہی ہے۔ ایج باسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن لنچ کے کچھ دیر بعد 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ یہ بیٹنگ لائن کی بڑی تباہی، ناکامی اور بربادی تھی۔ ذلت کی ایک اور داستان بابر اعظم اینڈ الیون نے لکھی۔ پاکستان کے کل 133 رنز کے ٹوٹل اسکور میں سعود شکیل کے 43 اور محمد عباس کے آخری لمحات میں بنائے گئے 21 رنز شامل تھے۔ ان کے بعد جو تیسرا بڑا اسکور تھا، وہ فاضل (ایکسٹرا) رنز کا تھا جو کہ 20 رنز تھے۔ پاکستان کے 8 کھلاڑی تو ڈبل فگر میں بھی داخل نہیں ہو سکے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور 7 کھلاڑیوں کو ملک واپس بھیجا تھا، جن میں اسٹار وکٹ کیپر محمد رضوان کا نمایاں نام تھا۔ اس کے علاوہ ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ سرفراز احمد اور عمر گل کو بھی برطرف کیا گیا تھا، لیکن سب کچھ کر لیا کچھ کام نہ آیا۔ اب تو لگتا ہے کہ دم درود کے لیے کسی مولوی کے پاس جانا پڑے گا۔
پاکستان کی اننگز کی یہ ناکامی اور بربادی لیڈز اور لارڈز کا ایک تسلسل ہے، جو آگے بھی شاید جاری رہے گی۔ انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ نے 42 رنز دے کر سب سے زیادہ 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا گیا، جبکہ ان کے علاوہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کی اس اننگز کا آغاز انتہائی تباہ کن تھا، جہاں 26 رنز پر چار کھلاڑی اور 48 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے اور اس کے بعد وکٹیں گرتی ہی رہیں۔ پوری ٹیم میں سے صرف سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کرتے نظر آئے۔ بابر اعظم ناکام ہوئے اور ٹیم میں جو نئی بیٹری ڈالی گئی تھی، وہ سب کی سب فلاپ ہو گئی۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی کا حال یہ رہا کہ صائم ایوب صفر، اذان اویس 9، عبداللہ شفیق 3 اور شان مسعود صرف 5 رنز بنا سکے۔ بابر اعظم صاحب بھی غازی غوری کے ساتھ ناکام رہے جہاں بابر اعظم 7 رنز، غازی غوری 4 رنز اور محمد عمران صرف 5 رنز ہی کر سکے۔
