کرک اگین رپورٹ ۔
عمران خان کی رہائی اور صحت کے لیے اٹھنے والی عالمی آوازوں میں اب کرکٹ کی دنیا کا ایک اور بہت بڑا نام شامل ہو گیا ہے۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ وہ نام ہے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا۔
وسیم اکرم نے موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ کسی طور درست نہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خان صاحب کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انٹرویو ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب دنیا بھر سے عمران خان کے حق میں مہم چل رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر 22 سابق کپتانوں کے خط کے بعد آسٹریلیا کے پیٹ کمنز، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا، اور پھر پاکستان سے جاوید میانداد کی رقت آمیز اپیل، رمیز راجہ اور معین خان سمیت کئی مقتدر شخصیات آواز اٹھا چکی ہیں۔ ایسے میں وسیم اکرم کا بولنا اس مہم کو مزید طاقتور بنا گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر خان صاحب کے لیے اٹھنے والی یہ آوازیں بالکل حق بجانب ہیں۔
وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ عمران خان ان کے دیرینہ دوست ہیں اور وہ انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ اگرچہ کافی عرصے سے ان کی بات چیت نہیں ہو سکی، لیکن جب عمران خان باہر تھے تو ان کا باقاعدہ رابطہ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو نہ صرف انصاف ملنا چاہیے بلکہ تمام ضروری طبی سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔ ملک کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتیں کچھ حکم دیتی ہیں اور حکومت کچھ اور کرتی ہے۔ وسیم اکرم نے سیاست سے دوری اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کون سی تحریک کامیاب ہوگی یا جیل کے پیچھے کیا معاملات ہیں، لیکن وہ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ عمران خان کی صحت سب سے مقدم ہے۔ وسیم اکرم نے ہمیشہ عمران خان کو اپنا سرپرست مانا اور اپنے پورے کیریئر کی کامیابیوں کا کریڈٹ انہیں دیا، جبکہ عمران خان نے بھی ہمیشہ وسیم اکرم کو ایک قدرتی اور بے مثل کھلاڑی قرار دیا۔ دونوں کے درمیان احترام کا یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہا، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وسیم اکرم کی یہ جاندار آواز پاکستان کے مقتدر ایوانوں میں کتنی ہلچل مچاتی ہے۔
