برمنگھم ۔کرک اگین رپورٹ۔انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل کپتان بابر اعظم کا پی سی بی کے خلاف واضح موقف، کیا استعفیٰ آنے والا ہے۔
تیسرے ٹیسٹ سے قبل کپتان بابر اعظم کا بڑا اعتراف، پی سی بی کے فیصلوں سے لا علمی کا اظہار۔برمنگھم سے تازہ ترین کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے فائنل معرکے سے قبل قومی کرکٹ ٹیم میں اندرونی اختلافات اور افرا تفری کی خبریں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کپتان کو اعتماد میں لیے بغیر اسکواڈ میں 7 بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں، جس کے بعد ایجبسٹن ٹیسٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کی انٹری متوقع ہے۔ انگلینڈ کے خلاف برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی کپتان بابر اعظم نے بورڈ کے فیصلوں سے مکمل لا علمی کا اظہار کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکواڈ میں اتنی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کے بارے میں انہیں میڈیا کے ذریعے ہی معلوم ہوا۔کپتان بابر اعظم کا یہ انداز کرکٹ شائقین کو سابق ہیڈ کوچ سرفراز احمد کے اس مشہور واقعے کی یاد دلاتا ہے جب لارڈز کے میدان پر ان سے ٹیم کے واک آؤٹ سے متعلق سوال ہوا تھا اور انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ آج جب ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں بابر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹیم سے 7 سینیئر کھلاڑیوں کو نکالے جانے کے فیصلے سے آگاہ تھے، تو انہوں نے سیدھا جواب دیا، مجھے کچھ نہیں پتہ، جنہوں نے یہ تبدیلیاں کی ہیں، آپ انہی سے (یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ سے) پوچھیں۔ اس کے علاوہ جب میڈیا میں چلنے والی ان رپورٹس پر سوال ہوا کہ کھلاڑیوں کے موبائل فون لے کر ان کا ڈیٹا ٹرانسفر کیا گیا اور کوئی اندرونی تحقیقات ہو رہی ہیں، تو بابر اعظم نے اس حساس معاملے پر بھی فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ کپتان کے اس سخت اور واضح موقف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس وقت ایک بے اختیار کپتان کے روپ میں نظر آ رہے ہیں اور بورڈ تمام فیصلے خود کر رہا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کا ڈیبیو، صائم ایوب کی واپسی اور کلین سویپ کا خطرہپاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ 9 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، جہاں افرا تفری کے اس دور میں نئے کھلاڑیوں کے لیے ٹیم میں جگہ بنانے کا بڑا موقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فائنل معرکے میں فاسٹ بولر رضا اللہ اور آل راؤنڈر عرفات منہاس کی غیر کیپڈ جوڑی اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کر سکتی ہے، جبکہ آٹھ ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھنے والے اوپنر صائم ایوب کی بھی ٹیم میں واپسی کا قوی امکان ہے۔پاکستان پہلے ہی سیریز میں 2-0 سے پیچھے رہ کر ٹرافی ہار چکا ہے اور اب قومی ٹیم کے پاس صرف اپنی عزت بچانے اور کلین سویپ کی ہزیمت سے بچنے کا آخری موقع ہے۔ تاہم، ایجبسٹن کا گراؤنڈ پاکستان کے لیے ماضی میں کبھی سازگار نہیں رہا، جہاں کھیلے گئے 8 میچوں میں سے پاکستان 5 ہار چکا ہے اور 3 ڈرا ہوئے ہیں، یعنی اس پچ پر پاکستان کی کوئی تاریخی فتح موجود نہیں ہے۔ آزاد کرکٹ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان یہ میچ بھی ہار گیا تو بابر اعظم کی کپتانی کی کرسی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق موجودہ سنگین حالات کو دیکھتے ہوئے بابر اعظم کو خود ہی کپتانی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
