تجزیہ۔حافظ محمد عمران عثمانی
تیسرا ٹیسٹ،کرسی خطرے میں،ایج باسٹن سے اہم اور تازہ ترین تفصیلات۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا تیسرا اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ 9 ستمبر بروز بدھ سے ایج باسٹن کرکٹ گراؤنڈ برمنگم میں شروع ہو رہا ہے ۔بریکنگ نیوز ہے کہ میچ کیسا ہوگا ۔موسم کا رویہ کیا ہوگا اور پاکستان کرکٹ ٹیم سے کیا امید ہوگی اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم کیا سوچ رہی ہے۔ تازہ ترین کرکٹ ارٹیکلز میں سے ایک کچھ اعداد وشمار کی باتیں ہیں جو ہم یہاں بتائیں گے اور کچھ ریکارڈ کی باتیں ہیں اور کچھ ایسی تازہ ترین خبریں ہیں جو عام مقامات پر آپ کو دستیاب نہیں ہونگی۔
سب سے پہلے آپ کو یہ بتاتے چلیں جیسا کہ رپورٹ کیا جا چکا کہ پاکستانی کپتان بابراعظم اور انگلینڈ کے کپتان جوئے روٹ نے میچ سے ایک روز قبل روایتی پریس کانفرنس کی ہے لیکن یہ پریس کانفرنس عام پریس کانفرنس سے ہٹ کرتھیں۔اس پر سب کی نگاہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ میں جو تماشا لگا ہے، اس حوالے سے بہت سے سوالات تھے۔ یہی وجہ ہے انگلینڈ کے ایک اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے بابرعظم کی پریس کانفرنس پر دلچسپ تبصرے کیے ہیں کہ جب ان سے نکالے گئے 7 کھلاڑیوں اور دیگر باتوں کے بارے میں سوال ہوئے تو اپنی کرسی سے اچھل پڑے اور انہوں نے جان چھڑانے والے انداز میں جواب دیئے
ان کا انداز ایسا تھاکہ پریس کانفرنس جلدی ختم ہو۔ انہوں نے وقت سے پہلے پریس کانفرنس ختم کی ۔دوسری جانب جوئے روٹ نے 20 منٹ کی طویل پریس کانفرنس میں تسلی بخش جواب دیا ۔انہوں نے پاکستانی ٹیم کو کمزور نہیں کہا ۔ایک اچھی ٹیم کہا۔ انہوں نے کہا کہ برا دن اتا ہے۔ برے میچ ہوتے ہیں ۔اب نیا میچ ہے۔ نیا مقابلہ ہوگا۔
کرکٹ گراؤنڈ کی پچ کیسی ہوگی۔ایک ایسا سوال ہے، جو ہر ایک جاننا چاہ رہا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے لیڈز اور لارڈز میں جو کچھ کیا۔ ظاہر ہے ایج باسٹن میں وہ اس کا تسلسل چاہے گا ،تاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف کلین سوئپ کر سکے اگر ایسا ہوا تو 2014 کے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پہلی بار مسلسل تین ٹیسٹ میچ جیتنے کا اعزاز حاصل کرے گی۔ دو سال قبل 2024 میں اس نے پانچ ٹیسٹ جیتے تھے ۔اس کے بعد سے مسلسل تین فتوحات اس کے حصے میں نہیں آئیں ۔اگر ہم ایج باسٹن کرکٹ گراؤنڈ کی بات کریں تو ہم جیسا کہ پہلے بتا چکے، پاکستان کی ٹیم ہسٹری میں یہاں کبھی نہیں جیتی۔ 8 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ۔5 میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ 3 میچز ڈرا ہوئے۔ شکست میچز میں آخری دو دورے والے میچز بھی شامل ہیں، جب 2010 اور 2016 کے دورہ میں پاکستان کو 141 رنز اور 9 وکٹوں کی شکست ہوئی تھی۔
یہ باتیں تو کافی پرانی ہیں ،کیوں نہ ہم تازہ ترین بات کریں۔ ایج باسٹن کرکٹ گراؤنڈ کے مزاج کی اور پچ کی۔ گزشتہ سال بھارت نے یہاں ٹیسٹ کھیلا تھا اور اس کے ایک کھلاڑی شبمان گل نے 430 رنز دو اننگز میں بنائے تھے اور یہ کسی بھی ٹیسٹ میچ کا دوسرا بڑا انفرادی مجموعی سکور بھی ہے۔ یعنی ریکارڈ بک میں اور وہ میچ پانچ روز چلا تھا۔ تو کیا پاکستان ایسے حالات میں جب گزشتہ میچ کھیلنے والی ٹیم میں سے اس کی کم سے کم چار تبدیلیاں یقینی ہیں۔ وکٹ کیپر محمد رضوان ٹیم سے باہر کر دیے گئے ۔امام الحق نکال دیے گئے۔ خرم شہزاد کو بھی واپس بھیجا گیا اور علی عثمان بھی پاکستان پہنچ چکے۔ صائم ایوب ،وکٹ کیپر غازی غوری کھیلیں گے۔
تو کیا پاکستان کرکٹ ٹیم لیڈز اور لارڈز کے مدار سے باہر نکلے گی اور ایج باسٹن میں گزشتہ سال کی بھارتی ٹیم کی طرح کی کچھ بہتر پرفارمنس دے گی یااپنے ماضی کی کسی ایک ٹیسٹ کی جبیسے ظہیر عباس نے یہاں ڈبل سنچری کی تھی اور ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا تھا،ایسی مثال قائم کرے گی۔سوال تو بنتا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ یہ ہے کہ پچ بھورے رنگ کی ہے۔میچ کے تمام دن بارش کی پیش گوئی ہے
اس کا مطلب کیا ہے کہ انگلینڈ میں موسم گرما کا اختتام ہے اور موسم سرما شروع ہو رہا ہے۔ ایسے میں پھر فاسٹ بولرز کا راج ہوگا۔ فضائیں اور ہوائیں ان کو مدد دیں گی اور پاکستانی بیٹرز کا پھر کڑا امتحان ہوگا۔
پاکستان کے موجودہ کپتان بابراعظم تین سال سے ٹیسٹ میچ میں سینچری نہیں کر سکے ۔ ممکہ طور پر ان کے کریئر کا یہ آخری میچ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی آج کی پریس کانفرنس ان کے لیے یا پی سی بی کے مزاج کے لیے کیسی ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا۔
