برمنگھم ۔کرک اگین رپورٹ ۔
ایج باسٹن کرکٹ ٹیسٹ میچ کا آج تیسرا دن ہے اور یہ انگلینڈ کے ہوم سیزن کا آخری دن ثابت ہو سکتا ہے۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے اس ہوم سیزن میں مجموعی طور پر 6 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں سے تین نیوزی لینڈ اور تین پاکستان کے خلاف شیڈول تھے۔ پاکستان کی جانب سے کوئی بڑی مزاحمت نہ ہونے کے باعث، میزبان ٹیم کا یہ گرمیوں کا ہوم ٹیسٹ سیزن آج اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ گزشتہ روز خراب موسم اور روشنی کی کمی کی وجہ سے میچ وقت سے کافی پہلے ختم کر دیا گیا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کرکٹ پنڈتوں کا خیال تھا کہ انگلینڈ یہ میچ دو ہی دن میں ختم کر دے گا، اور اگر یہ ممکن ہو جاتا تو سال 2000 کے بعد پہلی بار انگلینڈ کی دھرتی پر کوئی ٹیسٹ میچ محض دو دن میں مکمل ہوتا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔اب دنیا بھر کے کرکٹ فینز یہ جاننے کے لیے بے تاب ہوں گے کہ آج برمنگھم کا موسم کیسا رہے گا۔ آج ایج باسٹن سے تازہ ترین کرکٹ اپڈیٹ یہ ہے کہ اس وقت برمنگھم میں مطلع بالکل صاف ہے، خوشگوار دھوپ نکلی ہوئی ہے اور سورج کی کرنیں میدان کو چمکا رہی ہیں۔ اگرچہ وہاں موسم اچھا خاصا سرد ہے، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ کھیل اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوگا اور آج سارا دن بنا کسی رکاوٹ کے میچ ہونے کا مکمل امکان ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی دوسری اننگز میں دو اہم وکٹیں جلد گرنے کے بعد گرین کیپس شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اب سب کی نگاہیں پاکستان کرکٹ ٹیم پر جمی ہیں کہ کیا وہ جاتے جاتے برمنگھم کے اس تاریخی میدان میں کچھ پھڑپھڑاتے ہوئے میچ کو چوتھے دن تک لے جا پاتے ہیں یا پھر انگلش بولرز کے سامنے آج ہی دم توڑ دیتے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم اس ٹیسٹ میچ میں 320 رنز کے بھاری خسارے میں رہی۔ پہلی اننگز میں محض 133 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد پاکستان نے انگلینڈ کو 453 رنز بنانے کا موقع دیا، جو اس سیریز میں پاکستان کے خلاف انگریزوں کا سب سے بڑا اسکور بن گیا۔ اس سے قبل لیڈز ٹیسٹ میں انہوں نے 409 رنز بنائے تھے، اور وہ رنز ہی پاکستان کی دونوں اننگزوں پر بھاری ثابت ہوئے تھے۔ کیا اس مرتبہ بھی تاریخ خود کو دہرائے گی؟ پاکستان نے جب گزشتہ روز اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو صفر پر ہی اس کے دو کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے، لیکن بہرحال اذان اویس 29 اور شان مسعود 21 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں، اور پاکستان کا اسکور بدستور دو وکٹ پر 52 رنز ہے، جبکہ 268 رنز کا خسارہ اب بھی باقی ہے۔
دوسری طرف انگلینڈ کے پانچ بلے بازوں ایمیلیو گی، ہیری بروک، ڈین لارنس, جیمی اسمتھ اور اولی رابنسن نے پچاس کا ہندسہ تو عبور کیا، لیکن کوئی بھی اس ہاف سنچری کو سنچری میں تبدیل نہ کر سکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جون میں ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کے خلاف بین ڈکٹ کی بنائی گئی سنچری ہی اس پورے سمر سیزن میں انگلینڈ کی واحد ٹیسٹ سنچری رہے گی، جو کہ 6 ٹیسٹ میچوں کے طویل ہوم سیزن میں پہلی بار ہوا ہے۔
میدان کے اندر کے اس دباؤ کے ساتھ ساتھ، میدان سے باہر بھی پاکستانی کرکٹ کے لیے حالات انتہائی سازگار نہیں ہیں۔ اس وقت پاکستان میں یہ سنسنی خیز خبریں تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے ڈریسنگ روم کی معلومات مبینہ طور پر لیک کرنے کے معاملے پر محمد رضوان اور امام الحق کو طلب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں سے اس ڈریسنگ روم لیکج کے اوپر طویل پوچھ گچھ ہوئی ہے، جس پر محمد رضوان نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ اس اچانک کارروائی نے جہاں ایک طرف کھلاڑیوں کے گرد خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، وہیں دوسری طرف اسے قومی ہیروز کے لیے ذلت کا سماں بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کرکٹ فینز حیران ہیں کہ ایسا کیا سنگین معاملہ ہوا ہے جسے اس طرح قومی سطح پر اچھالا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے تنازع کا ذہنی اثر برمنگھم میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم پر بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کرکٹ حلقوں میں یہ خیال شدت پکڑتا جا رہا ہے کہ اس سیریز کے ختم ہوتے ہی پاکستان کے ٹاپ کھلاڑی یا کپتان کوئی ایسا بڑا اور حیران کن قدم اٹھا سکتے ہیں جس کی توقع اس وقت کسی کو بھی نہیں ہے۔
پاکستان کرکٹ تماشا،ایج باسٹن میں بھی بیٹنگ جنازہ،اب کیا بنے گا
