دبئی۔ کرک اگین رپورٹ۔
ٹرافی ڈرامہ گزرنے کے چند گھنٹے بعد ہی دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ائی سی سی کے ہیڈ کوارٹر سے پاکستان کرکٹ کو بڑی سزا سنائی گئی ہے اگرچہ اس کی جڑیں انگلینڈ ٹیسریز سے جڑی ہوئی ہیں لیکن خبر آج جاری ہوئی ہے۔
ویمنز ایشیا کپ ٹرافی تقریب،بھارتی عورتیں بھی ٹرافی چھوڑ کر بھاگ گئیں،سٹیڈیم سے سنسنی خیز رپورٹ
کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ گزشتہ رات چیئرمین پی سی بی اور اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے ایشیا کپ ویمنز چیمپئن شپ کے اختتام پر ٹرافی اور انعامات تقسیم کرنے کی کوشش کی ۔فاتح بھارتی ٹیم نے ان کے ہاتھوں سے انعامات اور ٹرافی لینے سے انکار کر دیا اور گراؤنڈ سے باہر چلے گئے، یہ وہی تسلسل تھا جو گزشتہ سال اسی ماہ بھارت کی مردوں کی ٹیم نے کیا تھا اور دونوں طرف سے تنقید کا سلسلہ جاری تھا کہ ایسے میں آئی سی سی درمیان میں کودا ہے ٹیکنیکی انداز سے۔
آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم پر بڑے جرمانے اور پوائنٹس کی کٹوتی کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ سے پاکستان باضابطہ طور پر باہر ہو گیا ہے۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ ائی سی سی کا پاکستان پر بڑا وار، 11 پوائنٹس منہا۔انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں جہاں ایک طرف پاکستان کو عبرت ناک وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا، وہیں اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سلو اوور ریٹ کی پاداش میں قومی ٹیم پر بھاری جرمانہ اور پوائنٹس کی کٹوتی کا بڑا فیصلہ سنا دیا ہے۔
میچ ریفری کی آفیشل رپورٹ کے مطابق، پاکستانی ٹیم مقررہ وقت کے حساب سے ریکارڈ 11 اوورز تاخیر کا شکار پائی گئی۔ آئی سی سی کے سخت قوانین کے تحت قومی ٹیم پر ہر اوور تاخیر کی بدولت 1، 1 پوائنٹ یعنی مجموعی طور پر 11 قیمتی پوائنٹس کی کٹوتی کی گئی ہے، جبکہ تمام کھلاڑیوں اور مینجمنٹ پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا ہے۔
بڑی کٹوتی کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پوزیشن مزید عبرت ناک ہو گئی ہے۔ پاکستان پہلے بھی نویں نمبر پر موجود تھا، لیکن اب 11 پوائنٹس کٹنے کے بعد قومی ٹیم کی جیت کی شرح (PCT) گر کر محض 5 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی ٹیم 20 فیصد سے زائد کی شرح کے ساتھ آٹھویں نمبر پر براجمان ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اب زمینی طور پر نویں نمبر کی پوزیشن سے اوپر نہیں اٹھ سکتا۔
ٹیسٹ چیمپئن شپ کا اختتام پاکستان کے لیے ذلت آمیز سائیکل
موجودہ سائیکل کے اختتام پر پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی؟ اس کا جواب انتہائی تلخ ہے۔ پاکستان کے پاس اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اس سائیکل میں صرف دو ٹیسٹ سیریز باقی بچی ہیں۔ پہلی ہوم سیریز اسی سال نومبر میں سری لنکا کے خلاف شیڈول ہے، جبکہ دوسری سیریز اگلے سال مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی جائے گی۔ تیکنیکی اور ریاضیاتی طور پر ان سیریز کے نتائج اب جو بھی نکلیں، پاکستان اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم مسلسل دوسرے سال بھی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا اختتام آخری نمبروں پر ہی کرے گی، جو کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔
