ممبئی۔کرک اگین رپورٹ۔ بھارت کا دھماکہ،سب سے بڑا مقابلہ،پاکستان مائنس
بی سی سی آئی کا مجوزہ دھماکہ،دنیائے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ، پاکستان مائنس
کرکٹ کی دنیا سے ایک بہت بڑی اور سنسنی خیز بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اگلے کچھ ہی مہینوں میں کرکٹ کی دنیا میں ایک بہت بڑا دھماکہ کرنے جا رہا ہے۔ اب اس دھماکے میں پاکستان شامل ہے یا نہیں؟ یہی اس وقت کا سب سے بڑا اور اہم ترین سوال ہے۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے۔
سو سالہ تاریخ اور یادگار میچ کا منصوبہ
بھارتی بورڈ اپنے ملک اور بورڈ کی کرکٹ کی صد سالہ (100 سالہ) تاریخ مکمل ہونے پر ایک انتہائی یادگار اور تاریخی میچ کا اہتمام کرنے والا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ 1928 میں قائم ہوا تھا اور اب اس تاریخی سفر کو ایک صدی مکمل ہو رہی ہے۔ اس عظیم جشن کے لیے بورڈ کی میٹنگ میں باقاعدہ فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس کے لیے دسمبر 2027 سے دسمبر 2028 تک کی ایک خصوصی ونڈو بھی رکھ دی گئی ہے۔
یہ تاریخی مقابلہ بھارت بنام ریسٹ آف دی ورلڈ ہوگا۔ یعنی بھارت کے موجودہ کھلاڑیوں کا سامنا دنیائے کرکٹ کے تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے ٹاپ پلیئرز سے ہوگا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ میچ ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں ہوگا، ون ڈے فارمیٹ میں یا پھر ٹیسٹ کرکٹ میں، یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مقابلہ تینوں ہی فارمیٹس میں کھیلا جائے۔
ریسٹ آف دی ورلڈ الیون۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کا نام غائب
یہ اس پوری بریکنگ نیوز کی سب سے اہم اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس ‘ریسٹ آف دی ورلڈ الیون میں کن ممالک کے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ٹیم میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے کھلاڑی تو شامل ہوں گے، مگر پاکستان اور بنگلہ دیش کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
یہیں سے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے کہ آپ ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کے خلاف میچ کھیلیں اور پاکستان کی اتنی ممتاز اور شاندار کرکٹ ہسٹری کو ہی سائیڈ پر کر دیں؟ اگر پاکستان ہی اس میں شامل نہیں، تو پھر وہ ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کیسی اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے بھارت پاکستان ہندوستان کے نام سے جانے چاہے تھے 1947 تک کرکٹ کھیلتے رہے اور جب 1947 میں تقسیم ہوئی تو کئی کھلاڑی جو پاکستان آئے وہ بھارت کی طرف سے کھیل چکے تھے ایک ایسی تاریخ ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
سیاست اور جھگڑوں کا لامتناہی سلسلہ
درحقیقت، دونوں ممالک کے درمیان جھگڑے اب اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ کبھی ٹرافیوں پر جھگڑے ہوتے ہیں تو کبھی میچز کے انعقاد پر۔ بات صرف کرکٹ تک نہیں رہتی، بلکہ یہ معاملات کبھی سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں، اور سیاست کے بعد کبھی یہ ‘وردی والوں’ کے اور کبھی ‘بغیر وردی والوں’ کے جھگڑے بن جاتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان بس جھگڑے ہی جھگڑے ہیں جن کا سایہ اب اس تاریخی میچ پر بھی پڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان میں ایک ممتاز آواز رہی ہے کہ مائنس عمران خان۔ دنیا ہمیں مائنس عمران خان نہیں بلکہ مائنس کرکٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں ۔
