لندن کریک اگین رپورٹ۔ کرکٹ کی ایک اور تازہ ترین خبر یہ ہے انگلینڈ کرکٹ بورڈ افغان پریمئر لیگ سے پیچھے ہٹنے لگا،این او سی سے انکار ۔
افغان پریمیئر لیگ۔برطانوی دباؤ کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی اور صنفی امتیاز کے دیرینہ تنازع نے ایک بار پھر کرکٹ کی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ برطانیہ کے ایک اہم رکنِ پارلیمنٹ کی کڑی تنقید کے بعد، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (اپنے کھلاڑیوں کو افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے این او سی جاری کرنے کے فیصلے پر شدید تذبذب کا شکار ہو گیا ہے۔
ای سی بی چیئرمین کا تازہ ترین موقف
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامسن نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی باقاعدہ طور پر ہمارے سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب یہ این او سی کی درخواستیں باضابطہ طور پر موصول ہوں گی، تو بورڈ بہت “احتیاط اور باریک بینی” کے ساتھ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
پہلے کیا فیصلہ ہوا تھا
اس سے قبل کرکٹ میڈیا پر یہ رپورٹس گردش کر رہی تھیں کہ برطانوی بورڈ رواں سال دسمبر اور جنوری میں متحدہ عرب امارات میں شیڈول افغان ٹی 20 لیگ کے لیے اپنے نامور کرکٹرز کو کلیئرنس دینے پر راضی ہو چکا ہے۔ اس ڈرافٹ کے لیے انگلینڈ کے کئی مرکزی اور فرسٹ کلاس کھلاڑیوں نے رجسٹریشن بھی کروا رکھی ہے۔ تاہم، تازہ ترین سیاسی اور عوامی ردِعمل کے بعد اب بورڈ کے لیے اپنے سابقہ مؤقف پر قائم رہنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے اور وہ واضح طور پر یو ٹرن لینے پر مجبور ہوتا نظر آ رہا ہے۔
تنازع کی اصل وجہ اور انگلینڈ کا دوہرا معیار
انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس تذبذب کی سب سے بڑی وجہ برطانوی حکومت اور عوامی سطح پر پایا جانے والا وہ شدید غم و غصہ ہے جو افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر پابندی کے خلاف اٹھ رہا ہے۔
دو طرفہ سیریز کا بائیکاٹ۔ انگلینڈ پہلے ہی اسی بنیاد پر افغانستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دو طرفہ کرکٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر چکا ہے۔
لیگ الیون پر اعتراض۔برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ جب بورڈ بین الاقوامی سطح پر بائیکاٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تو نجی فرینچائز لیگز کے لیے کھلاڑیوں کو این او سی دینا اخلاقی تضاد اور دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
انگلینڈ کے 12 کھلاڑیوں نے اس لیگ کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔
