راولپنڈی ۔کرک اگین رپورٹ۔
بھارت کی وجہ سے ڈراپ ہوا تھا بھارت نے ہی میری واپسی کرا دی۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ حسن نواز نے شاندار اور سرد قسم کا اعتراف کیا ہے۔
کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی 20 سیریز کے باقاعدہ آغاز سے چند گھنٹے قبل قومی ٹیم کے جارح مزاج ہٹر حسن نواز نے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے دل کی باتیں میڈیا کے سامنے رکھ دی ہیں۔ پاکستان بھر میں کرکٹ کی تازہ ترین خبریں جاننے والے شائقین کے لیے یہ انٹرویو اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ حسن نواز نے کھل کر اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں بھارت کے خلاف ایک مخصوص میچ کی وجہ سے ٹیم سے ڈراپ ہوئے تھے، لیکن آج اسی روایتی حریف کے خلاف کارکردگی ان کی ٹیم میں واپسی کا سبب بنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ ٹیم سے باہر ہوئے تو ہیڈ کوچ اور مائیک ہیسن نے انہیں صاف لفظوں میں جا کر دوبارہ پرفارم کرنے کا ٹارگٹ دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی پریکٹس اور فارم کو بحال کرنے کے لیے کلب کرکٹ اور لوکل کرکٹ سمیت ہر اس جگہ جا کر میچز کھیلے جہاں انہیں خود کو بہتر کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران حسن نواز کی گفتگو کے اہم ترین نکات
انفرادی کارکردگی کا افسوس۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے 96 رنز بنانے کا کوئی فائدہ نہیں جو ٹیم کی جیت میں کام نہ آ سکیں، گولڈ میڈل نہ جیت پانے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔میچ کا ٹرننگ پوائنٹ۔ ان کا ماننا تھا کہ ٹیم 211 رنز کا ہدف حاصل کر سکتی تھی، مگر مڈل اوورز میں ایک دو اوورز ایسے نکلے جہاں غلطیاں ہوئیں اور میچ ہاتھ سے نکل گیا۔
بھارت کے خلاف کھیلنے کا فائدہ۔حسن نواز نے کہا کہ بھارت دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے اور اس کے خلاف پرفارم کرنے والے کھلاڑی کو ہمیشہ آگے کیریئر میں فائدہ ہوتا ہے۔ غلطیوں سے سیکھنے کا عزم۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انتہائی سرد اور حقیقت پسندانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ بھارت کے خلاف مستقبل میں پھر میچز آئیں گے اور اگر دوبارہ وہی غلطیاں کی گئیں تو ٹیم کو پھر ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میچز کا یہ سلسلہ تو ایسے ہی چلتا رہے گا، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کھلاڑی اپنی پرانی غلطیوں سے کتنا سیکھتے ہیں۔
