ملتان سے حافظ محمد عمران عثمانی
نیشنل چیمپئنز کپ کا احاطہ: تپتا ملتان، بنجر پیس اٹیک اور 2027 ورلڈ کپ کا عجب سفر۔کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز اور بریکنگ نیوز میں سے ایک یہ ہے۔
اگرچہ ورلڈ کپ کے آغاز میں ابھی 14 مہینے کا فاصلہ باقی ہے، لیکن عملی طور پر ہم اسے ایک سال ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ عالمی ایونٹ سے دو تین ماہ قبل تقریباً تمام ٹیمیں اپنے حتمی اسکواڈز فائنل کر چکی ہوں گی۔ اسی تناظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 سے ٹھیک ایک سال قبل اپنے نئے ہوم ڈومیسٹک سیزن 2026 کا جو آغاز کیا ہے، وہ ایک ایسے بالکل نئے ٹورنامنٹ سے کیا ہے جس کا مقصد واضح ہے، نام سامنے آ چکا ہے اور جس میں ملک کے ٹاپ آف دی لائن کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں۔ البتہ بہت سے مانے ہوئے ستارے اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں، جیسے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم اس وقت ٹیسٹ سیریز کے لیے انگلینڈ کی سرزمین پر موجود ہے، اور ظاہر ہے اس ٹیسٹ اسکواڈ میں سے بھی کئی اہم کھلاڑی ون ڈے ورلڈ کپ کا لازمی حصہ بنیں گے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ نئے اعلان کردہ اس نیشنل چیمپئنز کپ کا افتتاحی سیزن جو 11 اگست سے شروع ہونے والا ہے، کیا اس کا حقیقی فائدہ صرف ایک سال قبل ہی حاصل کیا جا سکے گا؟ ہو سکتا ہے کہ اس وقت کے ٹاپ فور پرفارمرز ورلڈ کپ کے اصل وقت تک زخمی ہو جائیں یا آؤٹ آف فارم ہو جائیں، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں ایسی پچز تیار کی جا سکیں گی جو جنوبی افریقہ کی باؤنسی کنڈیشنز میں پاکستان کے کام آ سکیں؟ اور تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف اس بات کی پریکٹس تو نہیں کہ ان نامور کھلاڑیوں کو دوبارہ یاد دلایا جائے کہ ون ڈے کرکٹ اصل میں کیسے کھیلی جاتی ہے؟ کیونکہ جو تفصیلات ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں، اس میں کئی پروفیشنل کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے سال 2025 کے بعد پاکستان کے لیے کوئی آفیشل ون ڈے میچ نہیں کھیلا ہے۔
آئیے سب سے پہلے اس نیشنل چیمپئنز کپ کے بنیادی تعارف اور ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں۔ 11 اگست سے شروع ہونے والا یہ ایونٹ مجموعی طور پر چار ٹیموں پر مشتمل ہے، جن کے نام پاکستان گرینز، پاکستان وائٹس، پاکستان بلیوز اور پاکستان گولڈ رکھے گئے ہیں۔ یہ نئے ڈومیسٹک سیزن 2026 کا پہلا 50 اوورز کا ون ڈے ٹورنامنٹ ہے۔ یہ چاروں ٹیمیں راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت ایک دوسرے سے ایک ایک میچ کھیلیں گی، جس کے بعد سرِ فہرست رہنے والی ٹاپ دو ٹیمیں منگل 18 اگست کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں فائنل معرکے میں مہم جوئی کریں گی۔ چونکہ یہ 50 اوورز کا کرکٹ میچ ہے اور اس وقت ملتان میں شدید ترین گرمی اور حبس کا موسم ہے، اس کے باوجود میچز کا آغاز دوپہر کے بعد سہ پہر تین بجے ہوگا، جو رات 11 سے 12 بجے کے درمیان اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
ٹیموں کی کمانڈ اور ان کے کپتانوں کا ریکارڈ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ پاکستان گولڈ کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کریں گے، جو پاکستان کے موجودہ ون ڈے کپتان بھی ہیں اور آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز کی تاریخی فتح کے ہیرو تھے، جہاں انہوں نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے 7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دوسری طرف ایک اور نامور کھلاڑی حسن علی ہیں، جنہوں نے آخری بار اگست 2025 میں پاکستان کے لیے ون ڈے میچ کھیلا تھا، وہ اس بار پاکستان بلیوز کی کٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ پاکستان بلیوز کی کپتانی اس اوپنر کے ہاتھ میں دی گئی ہے جس نے آئندہ ایشین گیمز کے لیے بھی پاکستان کی کمان سنبھالنی ہے، یعنی صاحبزادہ فرحان۔ وہ آسٹریلیا کے خلاف آخری ون ڈے سیریز میں بری طرح ناکام رہے تھے اور تین میچوں میں صرف 37 رنز بنا سکے تھے۔
اس ٹورنامنٹ میں حارث رؤف کا نام بھی شامل ہے، جن کی عمر 32 سال ہو چکی ہے اور انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف آخری سیریز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، وہ یہاں پاکستان وائٹس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ پاکستان وائٹس کی کپتانی نوجوان صائم ایوب کے سپرد کی گئی ہے جن کا ستارہ پچھلے کچھ عرصے سے گردش میں رہا ہے اور انہوں نے آخری بار نومبر 2025 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے کھیلا تھا۔ صائم ایوب کا ون ڈے ریکارڈ دیکھا جائے تو 17 اننگز میں ان کے 751 رنز ہیں، جس میں تین شاندار سنچریاں اور کئی بڑی اننگز شامل ہیں، اور ان کی اوسط 47 کے قریب ہے جو کہ ایک بہترین ریکارڈ ہے۔
ان کے ساتھ ہی نسیم شاہ کا نام آتا ہے جو نومبر 2025 میں سری لنکا سیریز کے بعد سے ون ڈے کرکٹ سے دور رہے ہیں، وہ اس بار شاداب خان کی قیادت میں فخر زمان کے ساتھ پاکستان گرینز کے اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔ فخر زمان بھی آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں انجری کی وجہ سے ون ڈے میچز نہیں کھیل سکے تھے، اس لیے ان کے پاس سال 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں اپنی جگہ پکی کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔ پاکستان گرینز کی کپتانی شاداب خان کر رہے ہیں جو فخر زمان اور نسیم شاہ جیسے سینیئرز کے اوپر لیڈ کریں گے، اور وہ حال ہی میں لنکا شائر کے لیے انگلینڈ میں ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیلتے دکھائی دیے تھے۔
مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے کئی بین الاقوامی ستارے ایک ساتھ ملتان کے میدان پر ایکشن میں ہوں گے، جہاں مصباح الحق بھی ایک ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر موجود ہوں گے اور کئی نامور کمنٹیٹرز بھی پینل کا حصہ بنیں گے۔ امید ہے کہ ملتان کے کرکٹ فینز سورج غروب ہونے اور موسم خوشگوار ہونے کے بعد بڑی تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کریں گے۔ جب یہ مقابلے ملتان کی دھرتی پر سجیں گے تو ایسا لگے گا جیسے کرکٹ آزاد ہونے لگی ہے اور کھلاڑی اپنی بری پرفارمنس کے حصار سے باہر آنے کے لیے بے تاب ہیں۔
ٹورنامنٹ کا آفیشل شیڈول درج ذیل ہے
– 11 اگست: پاکستان گرینز بمقابلہ پاکستان وائٹس
– 12 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان گولڈ
– 13 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان وائٹس
– 14 اگست: پاکستان گولڈ بمقابلہ پاکستان گرینز
– 15 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان گرینز
– 16 اگست: پاکستان گولڈ بمقابلہ پاکستان وائٹس
– 18 اگست: فائنل معرکہ (ٹاپ دو ٹیموں کے مابین)
یاد رہے کہ یہ تمام ڈے نائٹ میچز ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں روزانہ سہ پہر تین بجے لائیو شروع ہوں گے۔
