عمران عثمانی پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ سیریز،سنچری کیوں نہیں بن رہی،شان مسعود بھی محروم ۔کرکٹ آرٹیکلز میں سے ایک
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری موجودہ ٹیسٹ سیریز کرکٹ کی تاریخ کے ایک ایسے انوکھے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں پچ اور حالات بلے بازوں کی مہارت پر حاوی نظر آتے ہیں۔
برمنگھم کے ایج باسٹن کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز کھیل رہی ہے اور میچ کا پورا انحصار اس بات پر ہے کہ مہمان ٹیم انگلش بولرز کے سامنے کتنی دیر مزاحمت کر کے ایک قابلِ دفاع برتری حاصل کر پاتی ہے۔
اس سنسنی خیز مرحلے پر سب سے حیران کن اور مایوس کن امر یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کا کوئی بھی کھلاڑی اب تک تین ہندسوں کا جادوئی ہندسہ چھونے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ شان مسعود کی عمدہ بلے بازی نے ایک امید ضرور جگائی تھی، لیکن وہ دوسری اننگز میں بدقسمتی سے 95 رنز پر ہمت ہار گئے۔ اس سے قبل لارڈز ٹیسٹ میں سعود شکیل کا 97 رنز پر آؤٹ ہونا اور پھر شان مسعود کا اس اہم موڑ پر وکٹ گنوا دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کریز پر سیٹ ہونے کے بعد بلے بازوں میں بڑی اننگز کھیلنے کی وہ روایتی بھوک یا ذہنی مضبوطی نظر نہیں آ رہی جو ٹیسٹ کرکٹ کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔
سنچریوں کے اس شدید قحط نے شائقینِ کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ انگلینڈ جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کا کوئی بھی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک بھی انفرادی سنچری اسکور نہیں کر سکا۔ حالیہ میچ کی پہلی اننگز میں میزبان ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں نے ہاف سنچریاں تو مکمل کیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنی پچاس کو سو میں تبدیل کرنے کی تڑپ نہ دکھا سکا۔ یہ عجیب و غریب نحوست صرف اسی سیریز تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل انگلینڈ نے اپنے ہوم سیزن میں نیوزی لینڈ کے خلاف جو تین ٹیسٹ کھیلے تھے، اس میں بھی پورے 3 میچوں کے طویل دورانیے میں اس کا صرف ایک ہی کھلاڑی بین ڈیکٹ سنچری بنا پایاتھا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جدید دور کی تیز رفتار کرکٹ کی وجہ سے بلے بازوں میں طویل اننگز بلڈ کرنے کا صبر ختم ہو رہا ہے اور وہ ففٹی بناتے ہی غیر ضروری طور پر وکٹیں گنوا رہے ہیں۔
آخری اطلاعات آنے تک پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 233 رنز بنا لیے ہیں۔ اگرچہ پاکستان اب بھی انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے سے محض 87 رنز کی دوری پر ہے، لیکن کریز پر موجود بلے بازوں کی ہمت نے پاکستانی شائقین کی امیدوں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ ٹیم کی چھ وکٹیں ابھی محفوظ ہیں، جو چوتھی اننگز میں انگلینڈ کے سامنے ایک فائٹنگ ہدف رکھنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس وقت پچ پر موجود سب سے بڑی امید بابر اعظم ہیں جو 48 رنز پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کا وکٹ پر ٹکنا نہ صرف پاکستان کو خسارے سے نکالنے کے لیے ضروری ہے، بلکہ اس پوری سیریز پر چھائی “سنچری نہ بننے کی نحوست” کو توڑنے کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر بابر اعظم یہاں اپنی کلاس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کریز پر جمے رہتے ہیں اور لوئر آرڈر کے ساتھ مل کر انگلش بولرز کو تھکانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ نہ صرف اپنی انفرادی سنچری کا قحط ختم کر سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو اس ہارے ہوئے میچ میں واپس لا کر مقابلہ سنسنی خیز بنا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بابر اس دباؤ کا مقابلہ کر کے کرکٹ کی اس روایتی رسم کو بدل پاتے ہیں یا انگلش بولرز پاکستان کی اس آخری مزاحمت کو بھی کچل دیں گے۔
