لاہور۔کرک اگین رپورٹ۔پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل پشاور زلمی کے نام،بابر اعظم پہلی بار ٹرافی اٹھاگئے۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے بابر اعظم آخر کار بطوقر کپتان پی ایس ایل ٹرافی جیتنے والے کپتان بن ہی گئے۔ان کی کپتانی میں پہلی بار پی ایس ایل ٹرافی ان کے ہاتھ آئی ہے۔پشاور زلمی نے ہسٹری میں 2017 کے بعد دوسری بار پی ایس ایل چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔اس نے حیدر آباد کنگز مین کو 5 وکٹوں سے شکست دی۔گرتے پڑتے،پرواز کرتے فائنل تک آنے والی حیدر آباد کنگز مین ٹاس ہارنے اور بیٹنگ لائن فیل ہونے کے بعد کھڑی نہ ہوسکی،اس کے پیسرز نے اگر چہ جوابی حملے میں بابر اعظم سمیت 4 ٹاپ آرڈرز 5 اوورز میں اڑادیئے لیکن 130 کے چھوٹے ٹوٹل نے اسے وہ فائدہ نہ دیا جو عام طور پر ہوتا ہے۔پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 جیت لیا۔حیدر آباد کنگز مین نے فائنل تک فائٹ کرکے فینز کے دل جیتے ہیں۔
پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 فائنل میں فائنل کے کم ٹوٹل 130 رنزکا تعاقب شروع کیا تو کیمپ میں اطمینان تھا۔پہلے ہی اوور میں چوکا لگنے کے باوجود کنگز مین نے پہلی کامیابی اس وقت حاصل کرلی جب محمد حارث 3 بالز پر 6 کرکے محمد علی کی گیند پر لبوشین کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔اوور کی 5 ویں بال پر بگ بیٹر بابر اعظم پہلی ہی بال کھیلتے ہوئے علی کی بال پر وکٹ کیپر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔وہ لیگ 11 کے لیڈنگ سکورر 588 پر تھے۔فخرزمان کے ریکارڈ 588 رنز کا ریکارڈ ایک رن کی کمی سے نہ توڑ سکے۔برابری پر رہے۔پشاور زلمی ایک اوور میں 7 پر 2 وکٹ گنوا چکا تھا۔اگلے اوور کی پہلی بال پر کوشال مینڈس رن آئوٹ سے بس بچ ہی گئے۔تھرڈامپائر نے طویل وقت کے بعد بیٹر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔کوشال مینڈس اور ایرون ہارڈی کوئی دبائو لینے کو تیار نہیں تھے۔وہ مسلسل ہٹ کرتے رہے۔3 اوورز میں سکور 2 وکٹ پر 33 کرچکے تھے۔کنگز مین کی 2 وکٹوں کی کوششوں کا اثر زائل ہورہا تھا۔اایسے میں ھنین شاہ کو لایا گیا۔بڑی وکٹ انہوں نے لے دی۔کوشال مینڈس 33 کے سکور پر 9 رنزبناکرمعاذ صداقت کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔کنگز مین نے اس وقت تھرتھلی مچادی جب اننگ کے 5 ویں اوور میں 40 کے سکور پر چوتھی اڑادی۔اس بار بائولر عاکف جاوید تھے۔مچل بریسویل بد قسمت بیٹر تھے جو4 رنزبناکر وکٹ کیپر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ایرون ہارڈی کنگز مین کیلئے دیوار بنے تھے۔پاور پلے کے 6 اوورز میں سکور 4 وکٹ پر 53 ہوچکا تھا۔نتیجہ میں عبد الصمد کے ساتھ مل کر ہارڈی نے12 اوورز میں ٹوٹل 102 تک کردیا۔ہارڈی نے 35 بالز پر ہاف سنچری مکمل کی۔زلمی جب فتح سے 5 رنز دور تھے تو عبد الصمد 34 بالز پر 38 رنزبناکر بائونڈری پر کیچ ہوئے۔انہوں نے 5 ویں وکٹ پر ہارڈی کے ساتھ مل کر میچ وننگ 85 رنزکی شراکت بنائی۔
پشاور زلمی نے ہدف 15.2 اوورز میں پورا کرکے میچ 5 وکتوں سے جیت کر پی ایس ایل 11 چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔2017 کے بعد یہ اس کا دوسر اٹائٹل ہے۔ہارڈی 39 بالز پر 56 رنز بناکر ناقابل شکست لوٹے۔کنگز مین کے محمد علی نے 4 اوورز میں 38 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔عاکف جاوید اور حینین شاہ کو ایک ایک وکٹ ملی۔
حیدر آباد کنگز مین کی ٹیم پہلی بار ٹاس نہیں ہاری تھی۔گزشتہ میچز سے اب تک اس نے اس سے بہتر ہوکر پرفارم کیا لیکن آج قذافی سٹیڈیم لاہور میں ٹاس ہارنے کے بعد اور اچھے آغاز کے باوجود اس کے بیٹرز جلدی کرگئے۔ایک موقع پر 51 پر ایک اور 71 تک 2 ہی آئوٹ تھے لیکن پھر 19 رنز کے اضافہ سے 90 تک مزید 5 وکٹ گرے اور یوں 90 رنز 7 وکٹ ہوگیا۔حیدر آباد کنگز مین ٹیم یکدم بھونچال میں آگئی۔معاذ صداقت 11،کپتان لبوشین 20،عثمان خان 8،عرفان خان ایک،گلین میکسویل صفر،حسان خان 12 اورحنین شاہ 9 کرکے پویلین لوٹے۔کوشال پریرا1 پر ایسے رن آئوٹ ہوئے کہ انہیں لگا کہ بائولر نے ان کا راستہ کاٹنے کی کوشش کی ہے۔تھرڈ امپائر نے طویل جائزے کے بعد آئوٹ قرار دیا۔صائم ایوب مکمل ناکامیوں کے بعد فائنل میں کھڑے تھے لیکن ان کا ساتھ دینے کو کوئی تیار نہ تھا۔پھر بھی ان کی وجہ سے کنگ مین 15 اوورز میں 8 وکٹ پر 115 رنز تک پہنچ گئے۔صائم ایوب نے 42 بالز پر ففٹی مکمل کی۔وہ یوں بھی خوش قسمت رہے کہ ناہید رانا کی ایک بال پر امپائر نے ایل بی آئوٹ قرار دیا لیکن ریویو پر بچ گئے۔18 ویں اوور کی پہلی بال پر صائم ایوب ایک احمقانہ شاٹ کھیل کر ملے موقع سے فائدہ نہ اٹھاسکے اور 50 بالز کھیل کر 54 کے انفرادی سکور پر پویلین میں تھے۔انہوں نے 2 چھکے اور 5 چوکے لگائے۔یوں پھر دوام نہ رہا۔7 اوورز میں 70 رنز تک 2 وکٹ کے ساتھ آغاز کرنے والی حیدر آباد کنگز مین پورے اوورز نہ کھیل سکی اور 18 اوورز میں 129 رنزبناکر آئوٹ ہوگئی۔عاکف جاوید 5 کرسکے۔
زلمی کیلئے ایرون ہارڈائی نے 4 اوورز میں 27 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔بنگلہ دیش سے صرف فائنل کیلئے واپسی کرنے والے ناہید رانا نے بہترین پیس کے ساتھ بائولنگ کی اور 4 اوورز میں صرف 22 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔سفیان مقیم نے اتنے ہی اوورز میں 23 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔محمد باسط نے ایک وکٹ لی۔
اس سے قبل پی ایس ایل رنگا رنگ اختتامی تقریب ہوئی۔ ملک کے نامور گلوکاروں عاطف اسلم، علی عظمت، عارف لوہار، آئمہ بیگ اور صابری سسٹرز نے اپنی پرفارمنس سے شائقین کو محظوظ کیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور زینب عباس نے ہوسٹ کیا۔وسیم اکرم کے ہمرہ ایشین بریڈ مین ظہیر عباس بھی موجود تھے، دونوں سابق کرکٹرز نے ٹرافی کو پوڈیم پر رکھا۔اختتامی تقریب کا اختتام شاندار اور دلکش آتشبازی سے ہوا۔
پی ایس ایل 11 میں بابر اعظم 588 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر بنے۔سفیان مقیم 22 وکٹ کے ساتھ ٹاپ وکٹ ٹیکر رہے۔
