ڈھاکا۔کرک اگین رپورٹ۔شان مسعود اور نجم الحسین کی اپروچ میں فرق،پاکستانی کپتان کی بزدلی کا بڑا ثبوت آگیا۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ بنگلہ دیش کے کپتان نجم الحسن نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف صرف جیتنے کیلئے میدان میں اترے تھے۔ڈرا کا خیال یا شکست کا کوئی خوف نہ تھا۔ادھر پاکستان کے عظیم کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ ہم ڈرا کی جانب جاسکتے تھے۔یہی ہے وہ فرو جو پاکستان کی شکست اور بنگلہ دیش کی جیت کا سبب بنا۔
نجم الحسن کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس ٹیسٹ میچ میں سب سے بڑی چیز ڈیکلریشن تھی، یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا۔ کچھ ایسا جو ہماری ٹیم نے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ یہ مستقبل میں ہمارے کام آئے گا، اور یہ فیصلہ ہمیں مزید اعتماد دے گا کہ اس طرح کی پوزیشن سے میچ جیتنا ممکن ہے۔ میں کہوں گا کہ اس پورے ٹیسٹ میچ میں یہ سب سے نئی چیز ہےکپتان کے مطابق بنگلہ دیش نے آخری دن کا آغاز زبردستی نتیجہ نکالنے کے ارادے سے کیا۔ یہاں تک کہ جب پاکستان چائے کے وقت 3 وکٹوں پر 116 رنز پر آرام دہ نظر آیا، ڈریسنگ روم کے اندر پیغام بدستور برقرار رہا۔صبح سے ہمارا پیغام تھا کہ ہم جیتنے کے لیے کھیلیں گے – حالات کی پرواہ کیے بغیر۔ چائے کے وقفے پر۔ کوچ نے یہی پیغام دیااور ہم سب اس یقین کے ساتھ واپس چلے گئے کہ ہم یہاں سے جیتیں گے۔ایک لمحے کے لیے بھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ ہم میچ ہار سکتے ہیں یا ہم ڈرا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس وہ جارحانہ ذہنیت تھی اور ہم نے جیتنے کی کوشش کی۔
ناہید رانا کی پانچ وکٹوں کی بدولت بنگلہ دیش کو 104 رنز کی یادگار جیت حاصل ہوئی، جو اس کی ہوم سرزمین پر پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ فتح ہے۔ جس میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو دن میں 76 اوورز میں 268 کا ہدف دیا تھا -کپتان کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ذہنیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جس نے بالآخر نتیجہ کو شکل دی۔
شان مسعود کیلئے ایک اور اعزاز،بنگلہ دیش سے ٹیسٹ شکستوں کی ہیٹ ٹرک
ادھر پاکستانی کپتان شان مسعود کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے مایوس کن ہے کیونکہ ہم نے محسوس کیا کہ اگر دونوں سیٹ بلے باز تھوڑی دیر تک بیٹنگ کرتے تو ہم کھیل کو ڈرا کی طرف لے جا سکتے تھے۔اگر آپ میرے ارادوں کے بارے میں پوچھیں تو ان کی پوری توجہ پاکستان ٹیم کو بہتر کرنے پر ہے، چاہے وہ ٹیم سلیکشن ہو، بیٹنگ پوزیشنز ہو یا ٹیم سے متعلق کوئی بھی معاملہ، اصل مقصد پاکستانی ٹیم کو بہتر بنانے میں مدد کرنا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، ٹیسٹ کرکٹ آپ سے بہترین کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ کو ٹیسٹ کرکٹ میں کبھی بھی کمزور مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔میں اسے قبول کروں گا۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ہمیں بہت سی چیزوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ میں کبھی بھی الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلوں گا۔ میں خود ذمہ داری لوں گا، لیکن میری مسلسل کوشش یہ ہے کہ ہم ٹیسٹ ٹیم کے طور پر کیا کر رہے ہیں، ہم کیا بہتر کر سکتے ہیں، اور ہمیں مضبوط ٹیسٹ ٹیم بننے کے لیے مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے۔
