ڈھاکا۔کرک اگین رپورٹ۔شان مسعود کیلئے ایک اور اعزاز،بنگلہ دیش سے ٹیسٹ شکستوں کی ہیٹ ٹرک۔کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ نام نہاد کپتان شان مسعود کی قیدات میں پاکستان ایک بار پھر ہار گیا۔پاکستان میں 2024 میں 0-2 کی شکست کے بعد بنگلہ دیش میں بھی جاکر یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔یہ اپنا فیصلہ خود نہیں کریں گے اور نہ پی سی بی کو ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ اپنے ملک میں تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے خلاف کوئی ٹیسٹ میچ جیتا اور مجموعی طور پر پاکستان کو مسلسل تیسرا ٹیسٹ ہرا کر ہیٹ ٹرک بھی کر دی۔قریب دو سال قبل اس نے پاکستان میں دو میچز کی سیریز دو صفر سے جیتی تھی۔ میرپور ڈھاکا میں پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری دن پاکستان کی بیٹنگ لائن حسب توقع دغا دے گئی اور 268 رنز کے تعاقب میں صرف 163 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ بنگلہ دیش نے دو میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ 104 رنز سے جیت کر ایک صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی ہے۔
کھیل کے پانچویں اور آخری روز بہت کچھ باقی تھا۔ بنگلہ دیش کو اگرچہ 179 رنز کی سبقت حاصل تھی اور اس کے پاس 7 وکٹیں تھیں لیکن ان کے بیٹرز نے تیز بیٹنگ کی۔ پلاننگ کے عین مطابق انہوں نے لنچ سے پہلے اس وقت اننگ ڈکلیئر کی جب نو وکٹ پر 240 سکور تھا 27 رنز کی برتری ملا کر انہیں 267 رنز کی سبقت تھی ۔268 رنز کا انہوں نے ہدف دیا ۔کپتان نجم الحسن شانتو یوں بد قسمت رہے کہ انہوں نے پہلی اننگ میں سنچری بنائی تھی وہ آج 87 رنز بنا کر نعمان علی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔13 رنز کی کمی سے سنچری نہ کر سکے۔ مومن الحق نے 56 رنز بنائے اور ان کے علاوہ کوئی بیٹر کوئی بڑی اننگ نہیں کھیل سکا۔ مہدی حسن 24 رنز بنا سکے اور مشفق الرحیم نے 22 کیے لیکن بنگلہ دیش نے اننگز ڈیکلیئر کرنے کے بعد جرات مندانہ فیصلہ کیا ۔پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 52 رنز دے کے تین وکٹیں لیں۔ نعمان علی نے 76 رنز دے کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور شاہین آفریدی نے 54 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔
جواب میں پاکستانی اننگز کی شروعات اچھی نہیں تھیں ۔امام الحق تین کے مجموعی سکور پر دو رنز بنا کر کیچ دے گئے۔پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی آذان اویس سیٹ کھڑے ہوئے تھے ان کے ساتھ عبداللہ فضل ایک دفعہ پھر سٹینڈ دینے آئے اور دونوں سکور کو 57 تک لے گئے۔ یہاں آذان اویس بدقسمت رہے اور 15 رنز بنا کر مہدی حسن مرزا کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ پاکستان نے پانچ رنز کے اضافے سے اپنے کپتان شان مسعود کی وکٹ گنوادی۔ جو پہلی اننگز کی طرح فلاپ ہوئے اور دو رنز بنا کے کیچ دے گئے۔ پاکستان کو پھر بھی کافی ریسکیو ملا،اس وقت جب 119 تک تین اؤٹ تھے۔ یہاں سیٹ بیٹر عبداللہ فضل 66 رنز بنا کر ایل بی ہوئے۔تیج الاسلام کے ہاتھوں۔وہ خاصے خوش قسمت تھے ،ان کا کیچ ڈراپ ہوا ۔ایل بی کی اپیل پر قسمت کے ہاتھوں بچے اور ایک بار بال ان کی بیلز کو لگی لیکن بلز نہ گری وہ بولڈ ہونے سے محفوظ رہے لیکن وہ چمتکار نہ دکھا سکے۔ انہوں نے 113 گیندیں کھیلیں۔ پاکستان کی پانچویں وکٹ دو رنز کے اضافے سے گری ۔121 پر سلمان علی آغا 26 رنز بنا کر وکٹ دے گئے۔ اب پاکستان شدید خطرات سے دوچار ہو چکا تھا یہاں پاکستان کو ریسکیو کرنے کے لیے سعود شکیل کے ساتھ محمد رضوان موجود تھے اور شروع میں وہ کافی بہتر نظر آئے ۔دونوں اسکور کو آہستہ آہستہ 152 تک لے گئے۔ یہاں سعود شکیل 15 رنز بنا کے آؤٹ ہوئے۔ ایک رنز کے اضافے سے محمد رضوان بھی 15 رنز بنا کے چلتے بنے اور اس کے بعد گویا لائن لگ گئی پوری اننگز 163 پر آؤٹ ہوئی۔ گویا پاکستان نے اپنی آخری پانچ وکٹیں 11 رنز کے اضافے سے دیں اور بنگلہ دیش کو 104 رنز کی فتح جھولی میں ڈال دی۔ ناہید رانا نے کیریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے 9.5 اوورز میں 40 رنز دے کے پانچ وکٹیں لیں۔ تسکین احمد نے 40 رنز دے کے دو وکٹیں لیں اور تیج الاسلام نے بھی 22 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ پاکستان کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بدترین شکست ہے ۔
اس شکست کے ساتھ ہی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر تبدیلی بھی ہو گئی ہے۔پاکستان 33.33 کے ساتھ 7 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔بھارت 5 ویں اور بنگلہ دیش چھٹے نمبر پر ہے۔آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،جنوبی افریقا اور سری لنکا ٹاپ 4 پر ہیں۔
