ملتان کرکٹ سٹیڈیم سے حافظ محمد عمران عثمانی
ورلڈ کپ کی تیاری دھرے کی دھری رہ گئی، ون ڈے کپتان اور ان کی ٹیم ایونٹ سے باہر۔کرکٹ بریکنگ نیوز اور تازہ ترین آرٹیکلز میں سے ایک ۔ورلڈ کپ کی تیاریوں کا دعویٰ کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ون ڈے کپتان اور ان کی ٹیم چیمپئنز کپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائک ہیسن بھی خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ان کا ون ڈے کپتان اپنی ٹیم سمیت ایک ایسے اہم ایونٹ سے باہر ہو گیا، جو خاص طور پر ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے سجایا گیا تھا۔ جی ہاں، ملتان میں جاری آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کے سلسلے میں کھیلے جا رہے چیمپئنز کپ میں پاکستان گولڈ کو پاکستان گرینز کے ہاتھوں 128رنز کی ایک عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹورنامنٹ میں شاہین شاہ آفریدی کی ٹیم کو یہ مسلسل دوسری ناکامی جھیلنی پڑی، جس نے ان کے فائنل میں پہنچنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا، جبکہ دوسری طرف گرینز کی ٹیم نے مسلسل دوسری فتح سمیٹ کر شان سے فائنل میں قدم رکھ دیے ہیں اور اب فائنل کی دوسری ٹیم کا فیصلہ اگلے اہم میچ میں ہوگا۔
اس سنسنی خیز مقابلے میں ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ پر پاکستان گرینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور حریف باؤلرز پر بغیر کسی خوف و خطر کے لاٹھی چارج کرتے ہوئے بورڈ پر 314 رنز کا پہاڑ جیسا اسکور سجا دیا۔ اننگز کی اصل جان فخر زمان کی وہ لاجوا ب باری تھی جس نے حریف باؤلرز کی لائن اور لینتھ بگاڑ کر رکھ دی۔ انہوں نے روایتی کلاسک اور جارحانہ مزاج کا امتزاج پیش کرتے ہوئے 115 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، جس میں سات کرارے چوکے اور چار فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ یہ اس ایونٹ میں ان کی مسلسل دوسری سنچری ہے جو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ اس وقت اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔گرینز کی اس بڑی اننگز میں صرف فخر اکیلے نہیں لڑ رہے تھے، بلکہ دوسرے اینڈ سے نوجوان عمیر بن یوسف نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ عمیر نے کمال پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 74 رنز کی ایک انتہائی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ ان دونوں کے درمیان دوسری وکٹ کے لیے 181 رنز کی جو شاندار شراکت داری قائم ہوئی، وہ نہ صرف اس میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی بلکہ اب تک اس پورے ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ بھی بن چکی ہے۔ اس خطرناک ہوتی جوڑی کو آخر کار گولڈ کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے عمیر کو آؤٹ کر کے توڑا۔ ان دونوں کے جانے کے بعد مڈل آرڈر میں شاداب خان نے کپتانی اننگز کھیلتے ہوئے برق رفتار 61 رنز جوڑے، جبکہ صاحبزادہ فرحان نے بھی اوپر کے نمبر پر 40 رنز کا مفید حصہ ڈالا۔ ان اہم اننگز کی بدولت پاکستان گرینز کی پوری ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 314 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔اگر پاکستان گولڈ کی باؤلنگ کی بات کی جائے تو اتنے بڑے اسکور کے باوجود شاہین شاہ آفریدی نے فرنٹ سے لیڈ کیا اور اپنی نپی تلی باؤلنگ سے تین اہم بلے بازوں کو راہ دکھائی۔ ان کے ساتھ عبدالسبحان نے بھی عمدہ کارکردگی دہرائی اور تین وکٹیں اپنے نام کیں، جس کی وجہ سے گرینز کی ٹیم آخری اوورز میں اس سے بھی بڑا اسکور بنانے سے محروم رہی۔
وقفہ کے بعد 315 رنز کے اس ہمالیہ جیسے ہدف کے تعاقب میں پاکستان گولڈ کا آغاز اگرچہ کافی پرامید اور بااعتماد تھا، جہاں نوجوان اوپنر شامل حسین شروع سے ہی انتہائی جارحانہ موڈ میں نظر آئے، لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں وہ سپورٹ نہ مل سکی جس کی اس بڑے میچ میں ضرورت تھی۔ دوسرے اوپنر کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد جیسے پاکستان گولڈ کی اننگز پٹری سے ہی اتر گئی۔ مڈل آرڈر کا بحران ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا اور یکے بعد دیگرے وکٹیں خزاں کے پتوں کی طرح گرنے لگیں۔ٹیم کے تجربہ کار بیٹر محمد اخلاق صرف 4 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، جبکہ سیٹ بلے باز شامل حسین 53 رنز کی ایک اچھی اننگز کھیلنے کے بعد کریز چھوڑ گئے، جس سے گرینز کے باؤلرز کو میچ پر گرفت مضبوط کرنے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد آنے والے بلے بازوں میں سے کوئی بھی دباؤ کا سامنا نہ کر سکا۔سعد خان محض 8 رنز بنا پائے اور کامران غلام نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ بھی 26 رنز سے آگے نہ بڑھ سکے۔ بڑی اننگز کھیلنے کے لیے مشہور حیدر علی 20 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے اور یہی حال عبدالصمد کا رہا جو 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔صرف 148 رنز کے مجموعی اسکور پر اپنی 6 اہم وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستان گولڈ کی ٹیم اس بھاری دباؤ کے تلے دب کر رہ گئی اور مقررہ اوورز ختم ہونے سے پہلے ہی 186 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ گرینز کے باؤلرز نے انتہائی عمدہ اور اجتماعی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں اٹیک میں شامل تقریباً تمام ہی کھلاڑیوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور وکٹیں اڑا کر اپنا اپنا حصہ بخوبی ڈالا۔اننگ 37 اوورز میں سمٹ گئی۔محمد حسنین نے 3 اور مہران ممتاز نے 2 وکٹیں لیں۔
اس یکطرفہ مقابلے کے بعد شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی میں کھیلنے والی پاکستان گولڈ کا سفر یہیں تمام ہوا، جبکہ پاکستان گرینز نے فائنل میں جگہ پکی کر کے ٹرافی پر نظریں جما لیں۔
پوائنٹس ٹیبل کی تازہ ترین صورتحال اور فائنل کی دوڑ
پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالیں تو پاکستان گرینز نے اپنے دو میچوں میں شاندار کارکردگی کی بدولت چار پوائنٹس حاصل کر کے فائنل کے لیے براہِ راست کوالیفائی کر لیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان وائٹس کے دو میچوں میں دو پوائنٹس ہیں، جبکہ پاکستان بلیوز نے بھی دو میچ کھیل کر دو پوائنٹس حاصل کر رکھے ہیں۔ پاکستان گولڈ کی ٹیم اب تک دو میچ کھیلنے کے باوجود صفر پوائنٹس کے ساتھ فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے۔ٹورنامنٹ کا اگلا اور انتہائی اہم میچ ہفتے کو پاکستان بلیوز اور فائنل میں پہنچنے والی پاکستان گرینز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ اگر پاکستان بلیوز اس میچ میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو وہ بھی چار پوائنٹس کے ساتھ گرینز کے ہمراہ فائنل کا ٹکٹ کٹا لے گی۔ دوسری صورت میں، اگر گرینز کی ٹیم اپنی جیت کا سلسلہ برقرار رکھتی ہے اور بلیوز کو شکست ہو جاتی ہے، تو بلیوز کے صرف دو پوائنٹس ہی رہیں گے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان بلیوز کا فائنل میں پہنچنے کا دارومدار پاکستان گولڈ اور پاکستان وائٹس کے درمیان ہونے والے آخری میچ کے نتیجے پر چلا جائے گا اور انہیں وہاں وائٹس کی ہار کا انتظار کرنا پڑے گا۔
فخر زمان نے مسلسل دوسری سنچری جڑ دی،ملتان سٹیڈیم میں رنگ بکھر گئے
