تجزیاتی رپورٹ ۔عمران عثمانی۔ سرفراز احمد پریس کانفرنس میں پکڑے گئے،پی سی بی کا سارا مبینہ بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔
سرفراز احمد پریس کانفرنس میں پکڑے گئے، پی سی بی کا بڑا پلان چوپٹ، اندر کی کہانی باہر آ گئی۔کرکٹ بریکنگ نیوز
تازہ ترین کرکٹ آرٹیکلز میں سے ایک ہے کہ
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی پہلی اننگز بری طرح فلاپ ہو چکی ہے۔ ایسے مایوس کن موقع پر تکنیکی طور پر کسی کھلاڑی یا کپتان کو آ کر کارکردگی کا جواب دینا چاہیے تھا، لیکن پی سی بی نے اس پورے ناکام سسٹم اور موجودہ رجیم کا دفاع کرنے کے لیے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو آگے کر دیا۔ اب سرفراز احمد خود اس ہیڈ کوچ کی سیٹ پر بیٹھنے کے اہل ہیں یا نہیں؟ یہ فیصلہ پڑھنے والے خود کریں گے۔لیکن اصل تماشہ پریس کانفرنس میں ہوا۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے انگلینڈ جانے والے روایتی پاکستانی صحافیوں نے وہی پرانے، رٹے رٹائے سوالات شروع کر دیے۔ حد ہے! آپ 10، 10 لاکھ روپے لگا کر لارڈز پہنچیں اور وہاں جا کر بھی کوئی ڈھنگ کا سوال نہ کر سکیں، تو آپ کی صحافت پر سوالیہ نشان تو لگے گا۔ لیکن اسی دوران پریس روم میں موجود ایک بے باک انگلش صحافی نے سرفراز احمد کے سامنے وہ تگڑا سوال رکھا جس نے ہیڈ کوچ کے پسینے چھڑا دیے۔
عمران خان کے بیٹوں کا ذکر اور ہیڈ کوچ کی بوکھلاہٹ
اس نڈر صحافی نے انگریزی میں سیدھا اور کڑا سوال داغ دیا۔گزشتہ روز عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ای سی بی کے درمیان شدید تناؤ اور بات چیت کی خبریں آئی ہیں، آپ اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟”یہ سوال سنتے ہی سرفراز احمد سیکنڈوں میں الرٹ ہو گئے۔ ایسا لگا جیسے وہ پہلے سے ہی رٹا لگا کر آئے تھے کہ اس سوال پر کیا اداکاری کرنی ہے۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے روایتی انداز میں فوری کہا۔آئی ڈونٹ نو (مجھے کچھ نہیں پتا)۔” لیکن شاید انہیں فوراً احساس ہوا کہ یہ جواب بہت ہلکا ہے اور بات بڑھ سکتی ہے، تو انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے پینترا بدلا اور کہا، میرا فوکس صرف اور صرف میچ کے اوپر ہے، مجھے اس کا کچھ نہیں پتا۔ہم تو کھانا کھا رہے تھے۔
لارڈز کے ڈریسنگ روم کی ڈھٹائی کا پوسٹ مارٹم
صحافی بھی کچا کھلاڑی نہیں تھا، اس نے پی سی بی کے پیڈ ملازم کو وہیں دبوچ لیا اور دوسرا تگڑا سوال داغ دیا،لیکن دھمکی کا اصل لب لباب تو یہ تھا کہ پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد فیلڈ میں واپس ہی نہیں آئیں گے، اس پر کیا کہیں گے۔ا ب یہاں ہیڈ کوچ کی ڈھٹائی اور اداکاری دیکھنے لائق تھی۔ انہوں نے چہرے پر ایک ایسی مصنوعی اور دکھاوے کی سنجیدگی طاری کی جیسے وہ دنیا کے سب سے معصوم انسان ہوں، اور آگے سے سوال کر دیا۔
کیوں؟ کس لیے؟۔صحافی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔اس وجہ سے (یعنی عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو کے تنازع پر)اس پر سرفراز احمد نے بوکھلاہٹ میں پینترا بدلا اور الٹا صحافی سے تفتیش شروع کر دی۔جب سرفراز احمد کو لگا کہ وہ پھنس چکے ہیں، تو انہوں نے بات گھمانے کے لیے پوچھا۔کیا آپ اس انٹرویو کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کسی انٹرویو کے بارے میں۔ اگر آپ اس انٹرویو کا پوچھ رہے ہیں، تو ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ان الفاظ کو بولتے وقت سرفراز احمد کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر ایک سجائی ہوئی ڈھٹائی تھی۔ میں یہاں ان لوگوں سے سوال کرنا چاہتا ہوں جو اس پریس کانفرنس کو بہت رومانوی انداز میں دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ ایک انٹرنیشنل ٹیم کے ہیڈ کوچ کا معیار ہے؟صحافی نے پھر پوچھا۔ کیا تمہارے پلیئروں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ باہر کیا چل رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔اس پر سرفراز احمد کا جواب پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مضحکہ خیز جواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں، ہمیں کچھ نہیں پتہ تھا، ہم تو کھانا کھا رہے تھے اور کھانے کے بعد فیلڈ میں آگئے۔
واہ سرفراز صاحب
واہ!۔لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی اننگز کا بیڑہ غرق ہو گیا، باہر کرکٹ بورڈ انٹرنیشنل میڈیا کو دھمکیاں دے رہا ہے، اور ہماری ٹیم اور ہیڈ کوچ دنیا سے بے خبر ہو کر آرام سے لنچ’ فرما رہے تھے۔ کیا یہ بات کوئی عقل مند انسان تسلیم کر سکتا ہے۔
فائنل پوسٹ مارٹم۔ کون جھوٹ بول رہا ہے؟ پی سی بی یا سرفراز احمد؟اب ذرا کرک اگین کی اس کرکٹ نیوز کا اصل لب لباب سمجھیں۔ ایک طرف یہ پکا اور مستند دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اور اسکائی اسپورٹس نیوز کو باقاعدہ آفیشل دھمکی لگائی تھی کہ اگر عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہوا، تو پاکستان کے کھلاڑی لنچ کے بعد گراؤنڈ میں قدم نہیں رکھیں گے۔ دوسری طرف، بورڈ کے تنخواہ دار ملازم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد لارڈز میں بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا، نہ انٹرویو کا پتہ ہے، نہ کسی دھمکی کا، ہم تو شیڈول کے مطابق کھیلنے آ گئے۔
کرک اگین نے پی سی بی مبینہ دعویٰ اور اس پر سرفراز کا انداز لکھا ہے۔یاد رہے کہ مبینہ دعوے کی تردید نہیں ہوئی۔
اس کا مطلب کیا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو کبھی ا نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے۔
