دبئی۔ کرک اگین خصوصی رپورٹ ۔ پی سی بی پاکستان کرکٹ کا جھومر یا تھپڑ،دبئی سے بریکنگ نیوز
جو شخص کبھی میرٹ پر پورا نہ اترتا ہو اور نہ ہی اس سیٹ کا اہل ہو، وہ جب مسلسل دوسرے سال بھی اسی عہدے پر براجمان رہے، تو نتائج ایسے ہی شرمناک نکلتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ میں “یس سر” (Yes Sir) کہنے کی جو روایت چل پڑی ہے، اس کی وجہ سے اب ایکریڈیشن ،کارڈز منسوخی یا کسی اور عارضی پرابلم اور خوف کی وجہ سے صحافی اور سابق کرکٹرز بھی بزدلی کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ بھی وہی راگ الاپ رہے ہیں جو انتظامیہ سننا چاہتی ہے، مگر تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
آخر ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کو اسپیشل دبئی کا رخ کرنا پڑا؟ جب پچھلے سال کے واقعات سب کے سامنے تھے، تو یہ دورہ کیوں ضروری تھا۔آج اگر آپ کے سر پر کسی کا ہاتھ ہے، تو یہ یاد رکھیں کہ کل جب یہ ہاتھ نہیں ہوگا تو پھر کیا بنے گا؟ اس بات کے پیچھے ایک ٹھوس لاجک موجود ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات فرماتی ہے کہ “میں تو ہوں نا”
۔پاکستان کرکٹ کے لیے ذلالت اور رسوائیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے پی سی بی اور اے سی سی کے چیئرمین محسن نقوی آخر کیا سوچ کر دبئی گئے تھے؟ اگر جانا اتنا ہی ضروری تھا تو خود سامنے آنے کے بجائے کسی اور کو آگے کر دیتے۔ آپ کو شاید لگتا ہے کہ آپ کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن لگتا ہے آپ نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا۔ کیا آپ بھول گئے کہ کئی سال تک انڈیا پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلتا تھا اور پاکستان کچھ نہیں کر سکتا تھا؟ آج جس بنیاد پر یہ سب اچھل رہے ہیں، اس کا نام عمران خان ہے، اللہ کرے وہ رہے، کیونکہ جب وہ نہ رہا تو یہ پورا ڈھانچہ اور تم بھی کہیں نظر نہیں آؤ گے۔
کرکٹ کے تازہ ترین آرٹیکلز: نظامِ دباؤ اور ذاتی مفادات۔
یہاں سب کچھ انسانی حقوق کے سراسر خلاف ہے اور ہر چیز صرف اور صرف ذاتی مفادات کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ یورپ کے ہیومن رائٹس (Human Rights) کے دعوے ہوں، پوری دنیا کا نظام ہو یا پھر گوگل کی یہ نئی اے آئی (AI) ۔یہ سب ایک مخصوص دائرے میں غلامی کا شکار ہیں۔ جس طرح غلام اپنے مالک کے اشاروں پر چلتے ہیں، اسی طرح یہ پورا ڈھانچہ بھی اسی غلامانہ ذہنیت کا عکاس ہے جو آزادیِ اظہارِ رائے اور سچے جذبات کو دبا دیتا ہے۔
کرکٹ بریکنگ نیوز: پاکستان کرکٹ تباہی کے دہانے پربھارت نے تھپڑ مارا ہے یا محسن نقوی نے
یہ تو وقت اور تاریخ ہی ثابت کرے گی، لیکن کیا محسن نقوی اس اہم ترین سیٹ کے لیے موزوں امیدوار تھے؟ اس کا فیصلہ بھی تاریخ کے ماتھے پر لکھا جائے گا۔ آج پاکستان میں کرکٹ تاریخ کے بڑے بڑے اور ٹاپ جرنلسٹ ڈرے ہوئے ہیں اور سچ لکھنے سے کتراتے ہیں۔ میں نے ملکی کرکٹ کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، مگر میں ڈرنے والا نہیں ہوں اور جو سچ ہے وہ سامنے لا کر رہوں گا۔ آپ پاکستان کرکٹ کی عزت بحال کرنے وہاں گئے تھے یا ملک کی مزید تذلیل کروانے؟ دبئی کے میدان میں بھارتی وومنز ٹیم نے آپ کو ایک طرح سے اٹھا کر باہر پھینکا اور وہ ٹرافی لیے بغیر چلی گئی۔ مسلسل دوسرے سال ذلالت اور رسوائی کی یہ نئی تاریخ رقم کرنے پر اب انتظامیہ کے پاس کیا جواب ہے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کچھ اونچ نیچ اور اوپر تلے کے نااہل لوگ سفارشی نظام کے تحت اہم ترین عہدوں پر آکر بیٹھ گئے ہیں۔ جب تک میرٹ کو پامال کر کے ایسے فیصلے کیے جاتے رہیں گے، عالمی سطح پر پاکستان کو اسی طرح کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کھیل کی بہتری کے لیے اب ان چہروں کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
بھارتی عورتوں نے،مرد نہیں عورتوں نے جن میں زیادہ ہمت نہیں ہوتی انہوں نے محسن نقوی کے منہ پر کیا رکھا ہے ۔ مجھے کچھ نہیں کہنا ۔انٹرنیشنل میڈیا دیکھ لیں۔
