یہ پاکستان کا ایک ہزار واں ایک روزہ ون ڈے انٹرنیشنل میچ تھا اور اسے ڈیبیو کرنے والے عرفات منہاس نے یادگار بنا دیا اور اسے آسٹریلیا کی سی ٹیم نے بھی پاکستان کے لیے تھوڑا سا بہتر بنا دیا کہ ان کی ٹیم صرف 200 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ پاکستان نے یہ ہدف 5 وکٹوں پر مکمل کرکے 5 وکٹوں سے جیت کر تین میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔
پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔آسٹریلیا کی ٹیم جس میں ایک ڈیبیو کھلاڑی تھا اس کے علاوہ کوئی بڑی بیٹنگ لائن نہیں تھی ۔پھر بھی مارنس لبوشین، ایلیکس کیری جیسے بیٹرز موجود تھے جو نہ چلے اور پوری ٹیم 44.1 اوورز میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔اوپنر میتھیو شارٹ 55 رنز بنا کر اوپر سے نمایاں رہے۔میٹ رنشو نے بعد میں 61 رنز بناکر اچھا حصہ ڈالا۔مارنس لبوشین اور کیمرون گرین جیسے نام صفر پر پویلین لوٹے کپتان جوش انگلش 13 کر سکے۔تینوں عرفات منہاس کا نشانہ بنے۔
پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے عرفات منہاس نے 52 رنز دیکر پانچ وکٹیں لیں۔ وہ ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بنے ہیں۔ وہ بھی ایک ہزار ونڈے میچز کے بعد ۔اس سے قبل ذاکر خان کا ریکارڈ تھا 19 رنز کے عوض چار وکٹوں کا۔ابرار احمد نے بھی دو کھلاڑی آؤٹ کئے۔
جواب میں پاکستان نے بہتر آغاز کیا لیکن پہلے معاذ صداقت 8 اور صاحب زادہ فرحان بعد میں 28 کرکے آئوٹ ہوئے۔48 پر 2 وکٹ گرنے کے بعد بابر اعظم اور غازی غوری نے سنبھال لیا۔
دونوں نے تیسری وکٹ پر سنچری شراکت 35 ویں اوور میں مکمل کرلی۔اس دوران بابر اعظم اور غازی غوری نے ہاف سنچریاں مکمل کیں۔
بابر اعظم پاکستان کا سکور جب 176 تھا تو اس وقت آؤٹ ہوئے تو غوری کے ساتھ انہوں نے تیسری وکٹ پر 127 رنز کی شاندار شراکت بنائی۔بابر اعظم 94 بالز پر 69 رنز کی اننگ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔پاکستان جب فتح کے قریب تھا تو غازی غوری 65 رنز بناکر آؤٹ ہو گئے۔انہون نے 92 بالیں کھیلیں۔ سلمان علی آغا 6رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان نے ہدف 42.3 اوورز میں 5 وکٹوں پر مکمل کرکے میچ 5وکٹوں سے جیت لیا۔نیتھن ایلس نے 2 وکٹیں لیں۔
