ملتان انٹرنیشنل سٹیڈیم سے حافظ محمد عمران عثمانی
آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027ء کی تیاریوں کے لیے ملتان انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے نیشنل چیمپئنز کپ کے پہلے ہی میچ سے پاکستان کو اپنا کھویا ہوا فخر واپس مل گیا ہے۔ کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ فخر زمان کی طوفانی اننگز کی بدولت پاکستان گرینز نے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کر لی۔پاکستان وائٹ کو 5 وکٹوں کی شکست ۔حارث رئوف اثر نہ دکھا سکے ۔طویل عرصے سے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ایک مستقل اور دھواں دھار اوپنر کی جو تلاش جاری تھی، ایسا لگتا ہے کہ وہ اب مکمل ہو چکی ہے۔
اس سے قبل، ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ڈومیسٹک ایونٹ کے افتتاحی میچ میں پاکستان وائٹس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 276 رنز بنائے۔ پاکستان وائٹس کا آغاز کچھ خاص نہ تھا اور کپتان صائم ایوب کریز پر زیادہ دیر نہ ٹک سکے، وہ 18 گیندوں پر محض 14 رنز بنا کر فرحان یوسف کا شکار بنے۔ ان کے بعد آنے والے محمد ریاض بھی بدقسمت رہے اور صرف 3 گیندوں کا سامنا کر کے 1 رن پر پویلین لوٹ گئے۔
چیمپینز کپ کا آغاز،وائٹ کے 276 رنز،سلو اوور ریٹ پر سوالات
صرف دو وکٹیں جلدی گرنے کے بعد عثمان خان کریز پر آئے اور انہوں نے نوجوان اوپنر شاہزیب خان کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بیٹرز نے تیسری وکٹ کے لیے 78 رنز کی انتہائی ذمہ دارانہ شراکت داری قائم کی اور ٹیم کا مجموعی اسکور 118 رنز تک پہنچایا۔ اس موقع پر عثمان خان 52 گیندوں پر ایک چھکے کی مدد سے 34 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ عثمان خان کے جانے کے بعد حسن نواز نے شاہزیب خان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے مل کر اسکور بورڈ کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا اور 31 اوورز میں مجموعی اسکور 164 رنز تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر شاہزیب خان، جو کہ انتہائی شاندار اور پراعتماد بیٹنگ کر رہے تھے، 88 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 76 رنز کی انفرادی باری کھیل کر نسیم شاہ کی ایک بہترین گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔
شاہزیب کے آؤٹ ہونے کے بعد حسن نواز نے اپنی عمدہ فارم برقرار رکھی اور خوشدل شاہ کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 76 رنز کی ایک اور اہم شراکت قائم کی۔ حسن نواز 61 گیندوں پر دو چھکوں کی مدد سے 56 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان وائٹس کا اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ اننگز کے آخری لمحات میں خوشدل شاہ نے جارحانہ انداز اپنایا اور 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 51 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر ٹیم کو ایک مستحکم مجموعے تک پہنچایا۔
پاکستان گرینز کے باؤلرز نے میچ کے درمیانی اوورز میں شاندار کم بیک کیا۔ پاکستان گرینز کے کپتان نے اننگز کے دوران مجموعی طور پر 7 باؤلرز کا استعمال کیا، تاہم ملتان کے شدید گرم اور حبس زدہ موسم کے باعث وہ اپنے کسی بھی اہم باؤلر سے 10 اوورز کا کوٹہ مکمل نہ کروا سکے۔ پاکستان کے صف اول کے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے پچ کا بہترین استعمال کیا اور 9 اوورز میں 46 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔
نیشنل چیمپئنز کپ کا احاطہ،تپتا ملتان، بنجر پیس اٹیک اور 2027 ورلڈ کپ کا عجب سفر
آل راؤنڈر فہیم اشرف بھی اپنے روایتی مزاج کے مطابق انتہائی متاثر کن رہے, انہوں نے 7 اوورز میں محض 35 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مہران ممتاز نے 9 اوورز میں 61 رنز دے کر 1 وکٹ لی، جبکہ زمان مرزا نے 6 اوورز میں 31 رنز کے عوض 1 وکٹ حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹ ٹائم باؤلر فخر زمان سے بھی 4 اوورز کروائے گئے جنہوں نے نپی تلی باؤلنگ کرتے ہوئے صرف 11 رنز دیے، تاہم انہیں دوبارہ باؤلنگ پر نہیں لایا گیا۔ دوسری طرف کپتان شاداب خان اس میچ میں کافی مہنگے ثابت ہوئے، انہوں نے اپنے 8 اوورز کے اسپیل میں 55 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ پاکستان گرینز کی اس نپی تلی باؤلنگ کی بدولت پاکستان وائٹس کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 276 رنز تک محدود رہی اور گرینز کو جیت کے لیے 277 رنز کا ہدف ملا۔
ہدف کا تعاقب اور فخر زمان کا طوفان
پاکستان گرینز کی جانب سے فخر زمان اکیلے ہی پاکستان وائٹس کے باؤلنگ اٹیک پر بھاری دکھائی دیے۔ اگرچہ ان کے ساتھ اوپننگ پر آنے والے سمیر منہاس 33 گیندوں پر 24 رنز بنا سکے اور ان کے بعد ون ڈاؤن پوزیشن پر آنے والے عمیر بن یوسف بھی 19 گیندیں کھیل کر صرف 8 رنز ہی کر سکے، لیکن فخر زمان نے رنز بنانے کی رفتار کو کم نہیں ہونے دیا۔ ان دو ابتدائی وکٹوں کے جلد گرنے کے باوجود پاکستان گرینز نے پہلی وکٹ پر 90 رنز اور دوسری وکٹ کے لیے مزید 67 رنز جوڑے، جس کی بدولت 157 رنز تک اسکور بورڈ ایک مضبوط پوزیشن واضح کر رہا تھا۔ فخر زمان کی اس جاندار اننگز کی وجہ سے بڑا ہدف بھی آسان سے آسان تر ہوتا چلا گیا۔
لسٹ اے کرکٹ میں طویل انتظار کے بعد فخر زمان کا یہ روپ
فخر زمان نے اس سے قبل نومبر 2023ء میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف بنگلور کے میدان پر 63 گیندوں پر ایک تاریخی سنچری اسکور کی تھی، جس کے بعد وہ اس فارمیٹ (50 اوورز کرکٹ) میں کسی سنچری کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ فخر زمان فٹنس اور انجری کے مسائل کی وجہ سے آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی آخری ون ڈے سیریز کا حصہ بھی نہیں بن سکے تھے اور کافی عرصے سے قومی ون ڈے اسکواڈ سے غیر حاضر تھے۔ اب جب کہ آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027ء کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، فخر زمان کی یہ فارم اور اننگز نہ صرف انہیں اس میگا ایونٹ کی دوڑ میں مزید نکھارے گی بلکہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے بھی ایک بہترین نیک شگون ثابت ہوگی۔
پاکستان گرینز کا اسکور جب 29 ویں اوور میں داخل ہو رہا تھا، تو فخر زمان پاکستان گرینز کے مجموعی اسکور کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچا کر ہمت ہار گئے۔ پاکستان وائٹس کے باؤلر شاہنواز دھانی نے بڑی چالاکی کے ساتھ ایک شارٹ پچ گیند کی، جس پر فخر زمان وکٹ کیپر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ فخر زمان نے آؤٹ ہونے سے قبل 104 گیندوں کا سامنا کیا اور 123 رنز کی شاندار اور دلکش اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز کی خاص بات میدان کے چاروں اطراف لگائے گئے 18 شاندار چوکے اور 2 فلک شگاف چھکے تھے۔
فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے بعد اب پاکستان گرینز کا مڈل آرڈر اگیا۔مرزا سعد بیگ اور فرحان یوسف نے سکور218 تک کردیا۔اننگ کے 37 ویں اوور میں فیلڈ سائیڈ کو چوتھی کامیابی سعد کی ملی جو 22 رنز بناکر گئے۔ اس دوران فلڈ لائٹ ٹاور خراب ہونے سے 15 منٹ کے قریب میچ رکا رہا۔248 کے مجموعے پر فرحان 38 رنزبناکر کیچ دے گئے۔اس وقت 29 رنز کی مزید ضرورت تھی اور 43 واں اوور جاری تھا۔شاداب خان دوسرے اینڈ پر موجود تھے۔فہیم اشرف نے ان کو جوائن کیا۔پاکستان گرینز نے 49 اوورز میں 5 وکٹوں سے میچ اپنے نام کر لیا۔فاتح ٹیم نے 5 وکٹ پر 277 رنز بنالئے۔ایک اوور باقی تھا۔شاداب خان 34 اور فہیم اشرف 11 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے۔
حارث رئوف ناکام رہے۔7 اوورز میں 42 رنز دے کر کوئی وکٹ نہ لے سکے۔صائم ایوب نے 10 اوورز مکمل کئے۔44 رنز دے کر کوئی وکٹ نہ لے سکے۔خوشدل شاہ نے 41 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔شاہ نواز دھانی اور وسیم جونیئر نے بھی ایک ایک وکٹ لی۔اہم بات یہ ہوئی کہ سپپنر سعد مسعود نے7 اوورز میں30 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔
