راولپنڈی۔کرک اگین رپورٹ۔شاہین آفریدی کی پریس کانفرنس،یہ کپتان ہیں یا ہارے ہوئے انچارج،اگلے نتائج کلیئر۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ یہ ایک قابل اعتماد،سمجھدار اور منجھے ہوئے کپتان کی پریس کانفرنس ہر گز نہیں تھی۔جو راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف 3 ون ڈے میچز کی سیریز کے آغاز سے قبل ہوئی ہے۔یہ ایک ایسا ون ڈے کپتان ہے جو بنگلہ دیش کے خلاف مسلسل 2 ٹیسٹ سیریز ہارنے والی ٹیم کا حصہ رہا اور اس سے بھی بدقسمت یوں رہا کہ 2024 اور 2026 کی دونوں سیریز کے دوسرے ٹیسٹ سے اسے ڈراپ کیا گیا۔بات ہورہی ہے شاہین آفریدی کی جو مسلسل ناکام تھے اور ہیں اور بات کرتے ہیں کہ پاکستان کی شکست کا ذمہ دار میڈیا بھی ہے جو شکست پر تنقید کرتا ہے۔اس سے ہم دبائو میں آتے ہیں۔کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ سیاسی بساط کی طرح کرکٹ بساط پر بھی میڈیا کو اب مہرہ بن جانا چاہئے یا بنادینا چاہئے۔شاہین آفریدی سوال کے جواب پر اپنی سپیڈ کے 200 کے ہونے کا دعویٰ کرکے مذاق اڑاتے ہیں۔ان سے عمران خان،وسیم اکرم،وقاریونس،شعیب اختر وغیرہ جیسے فاسٹ بائولرز کی مثال دے کر پوچھا جائے تو ناک چڑھاتے ہیں۔یہ کپتان ہیں یا کریکٹر۔یہ پاکستان ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کمانڈر ہیں یا کسی جنگل کے قانون والے ایک حصہ یا یونٹ کے انچارج۔
اپنی گرتی ہوئی سپیڈ اور ساکھ کے دفاع کا جواب کچھ یوں تھا کہ مشینیں وقت کے ساتھ خراب ہوجاتی ہیں۔یہ ایک معمول ہے کہ مشینیں وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں۔ ہم خود کو ری چارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جب آپ کے جسم کو آرام ہو تو آپ گیند کو زیادہ رفتار دے سکتے ہیں، لیکن ہمارے جسم ہمیشہ پاکستان کے اختیار میں رہتے ہیں۔ تمام گیند باز سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنی رفتار کو کیسے بڑھا سکتے ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا ٹرافی رونمائی ،گرین کیپس کا 1000 واں میچ
محمد رضوان کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا۔میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔ یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا رضوان پر ون ڈے سائیڈ کے دروازے بند ہیں؟ کہتے ہیں کہ بابر اور مجھے بھی ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا لیکن ہم واپس آگئے ہیں۔ میں نے اس بارے میں رضوان سے بات کی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اس کی کرکٹ صرف اس وجہ سے ختم ہو گئی ہے کہ اسے اس سیریز کے لیے ڈراپ کیا گیا ہے۔ ورلڈ کپ سے قبل نوجوانوں کو موقع دینا بھی ضروری ہے۔
ورلڈکپ 2027 مہم،پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا،پہلا ون ڈے ہفتہ کو،3 بڑی اپ ڈیٹس
پاکستان کے پاس ایکسپریس فاسٹ باؤلرز کی ایک بھرپور میراث ہے، لیکن موجودہ فصل اپنے ہم عصروں کی رفتار سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے جانچ کی زد میں ہے۔ رفتار میں کمی نے اکثر ٹیم کی ٹیسٹ میچوں میں دو بار مخالفوں کو آؤٹ کرنے کی صلاحیت کو متاثر نہیں کیا۔شاہین شاہ آفریدی کے مطابق پاکستان، اپنے فاسٹ باؤلرز کی گرتی ہوئی رفتار پر تشویش کا شکار ہے، اس حد تک کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی اس پر قابو پانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
