سلہٹ۔کرک اگین رپورٹسلہٹ ٹیسٹ،آغا اور رضوان کی بھرپور مزاحمت،پاکستان 121 اور بنگلہ دیش 3 وکٹ کی دوری پر۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ ۔محمد رضوان اور سلمان علی آغا نے پاکستان کی امیدوں کے دیے روشن رکھے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ریکارڈ 437 رنز کے ہدف کے تعاقب کی کوششیں جاری رہیں ۔سلہٹ میں کھیلے جا رہے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز کے اختتام پر پاکستان کا سکور دوسری اننگ میں سات وکٹ پر 316 رنز ہو چکا تھا۔ ابھی بھی یہ ٹیم جیت سے 121 رنز کی دوری پر ہے اور بنگلہ دیش کو صرف تین وکٹیں درکار ہیں ۔
اگر میچ کے اختتامی لمحات میں کھیلے گئے پانچ اوور کا کھیل نہ ہوتا تو یہی سکور پانچ وکٹ پر اتنا ہوتا تو پاکستان کے جیتنے کے امکانات کچھ زیادہ ہو سکتے تھے۔ محمد رضوان اور سلمان علی آغا کی چھٹی وکٹ پر جاندار اور مزاحمت سے بھرپور 132 رنز کی شراکت قریب 37 اوورز میں بنی۔ یہ ایسی شراکت اور پارٹنرشپ تھی جو پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں معدوم ہوتی جا رہی ہے ۔اسی شراکت نے ٹیسٹ کرکٹ کے حسن کو زندہ کیا ۔کرکٹ کے چاہنے والوں کو نظر آیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کس قدر خوبصورت ہے۔ ایک موقع پر پاکستان کی پانچ وکٹیں 162 کے اسکور پر گری چکی تھیں اور ابھی 43.4 اوور کا کھیل ہوا تھا۔ وہاں ایسا لگ رہا تھا کہ اب بس چند لمحات کی بات باقی ہے۔ یہاں سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے نہایت ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور دونوں نے سکور کو بھی آگے بڑھائے رکھا لیکن بدقسمتی سے جب اسکور 296 ہو چکا تھا اور کھیل ختم ہونے میں آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت باقی تھا اور یہ اننگ کا 82واں اوور تھا تو سلمان علی تیج الاسلام کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ انہوں نے 71 رنز بنائے۔ 102 گیندیں کھیلیں۔چھ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی محمد رضوان کے ساتھ 132 رنز کی پارٹنرشپ اپنے اختتام کو پہنچی ۔پاکستان کو اگلا نقصان بھی جلد اٹھانا پڑا۔ 8 رنز کے اضافے سے حسن علی صفر پر آؤٹ ہوئے ۔ان کی وکٹ بھی تیج الاسلام نے لی ۔ان کا کیچ نجم الحسین نے پکڑا۔ اب 304 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ تھے تو 84 واں اوور چل رہا تھا۔ خیال یہ تھا کہ اگر پاکستان کی ایک اور وکٹ گری تو آدھا گھنٹہ شاید بڑھایا جائے لیکن چونکہ سلہٹ میں کم روشنی کی وجہ سے پہلے بھی کھیل جلدی ختم ہوتا رہا ہے، امپائرز نے 86 اوورز کے بعد دن کے خاتمے کا اعلان کیا تو سکور بورڈ پر پاکستان سات وکٹ پر 316 رنز بنا چکا تھا اور اسے جیتنے کے لیے کھیل کے آخری روز 121 رنز بنانے ہوں گے جبکہ بنگلہ دیش کو تین وکٹیں درکار ہیں۔
اپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان 377 رنز سے بڑا ہدف کبھی حاصل نہیں کر سکا۔ دنیا کی کوئی ٹیم 414 رنز سے بڑا ہدف حاصل نہیں کر سکی تو 437 رنز کا ہدف ورلڈ ریکارڈ بریکنگ نیوز ہوگا ۔پاکستان کرکٹ کے لیے، بنگلہ دیش کے ریکارڈز کے لیے اور ورلڈ کرکٹ کی ہسٹری کے لیے بڑی نیوز ہوگی ۔اگر پاکستان ایسا کرنے میں کامیاب ہوا تو وہ یہ نہ صرف ایک ہسٹری رقم کرے گا بلکہ ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے ڈرا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ دوسری صورت میں پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف مسلسل دوسری سیریز ہارے گا، مسلسل چوتھا ٹیسٹ میچ ہارے گا۔
چوتھے دن کا آغاز پاکستان نے 0 رنز بغیر کسی نقصان کے کیا تو اس کے دونوں اوپنرز بڑی جلدی پویلین لوٹ گئے ۔ اوپنر عبداللہ فضل 27 کے مجموعے پر اور آذان اویس 41 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے۔ آذان نے 21 کیے ۔عبداللہ فضل 6 رنز بنا سکے ۔شان مسعود اور بابراعظم نے پاکستان کو سنبھالنے کی کوشش کی اور تیسری وکٹ پر 92 رنز کا اضافہ کیا جب اسکور 133 ہوا تو بابراعظم جو سیٹ کھیل رہے تھے وہ 47 رنز بنا کر تیج الاسلام کی گیند پر لٹن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے ۔انہوں نے 52 گیندیں کھیلیں۔ چار چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ پاکستان کی وکٹ گرنے کی دیر تھی کہ چوتھی وکٹ سعود شکیل کی گری جو حسب معمول ناکام رہے اور 6 رنز بنا کر ناہید رانا کا شکار بنے اور تھوڑی دیر بعد ایک اور سیٹ بیٹر کپتان شان مسعود 116 بالز پر 71 رنز کی اننگ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ وہ بھی تیج الاسلام کا شکار بنے۔8 چوکے لگائے تو پاکستان نے تین وکٹیں 29 رنز کے اندر گنوادیں۔ یہاں سے بنگلہ دیش نے میچ پر گرفت بہت مضبوط کی۔ پھر سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے شاندار مزاحمت کی اور پاکستان کے لیے امیدیں روشن کیں اور شکست سے ایک دن کے لیے کم سے کم بچائے رکھا ۔
بنگلہ دیش کی جانب سے تیج الاسلام اب تک 31 اوورز میں 113 رنز دے کر چار کھلاڑی آؤٹ کر چکے ہیں۔ ناہید رانا کے حصے میں 58 رنز کے ساتھ دو وکٹیں آئی ہیں۔
کل بروز بدھ میچ کا اخری دن ہے اور محکمہ موسمیات نے پانچوں دن بارش کی پیش گوئی کی تھی۔ چار دن کھیل متاثر نہیں ہو۔ اب دیکھیں پاکستان شکست سے بچتا ہے۔ بارش مدد کو آتی ہے یا پاکستان تاریخ رقم کرتا ہے ۔ساری آپشنز اوپن ہیں۔ دنیائے کرکٹ کی نگاہیں سلہٹ پر مرکوز ہیں۔ جہاں 20 مئی بروز بدھ کھیل کا دلچسپ دن آنے والا ہے۔
