ڈھاکہ ۔کرک اگین رپورٹ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی یا پاکستان کرکٹ کی بد حواسی ،بمگلہ دیش برتری پاگیا۔
محمد رضوان اور سلمان علی آغا کی 119 رنز کی اہم شراکت نے پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف بڑے خسارے سے بچا لیا لیکن بنگلہ دیش کی برتری بہرحال قائم رہی۔یہی نہیں بلکہ 27 رنز کی برتری اور دوسری اننگ کے 7 رنز کے ساتھ اس کے 34 رنز ہوچکے ہیں اور تمام 10 وکٹیں باقی ہیں۔
یہ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے؟ سیشن بائی سیشن کا کمال ہے یا پاکستان کی ہمیشہ سے چلتی کمزوری ؟سالہا سال سے کوچز سے یہ سوال ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے کہ کیا وجہ ہے پاکستان کی ایک وکٹ گرتی ہے تو چار سے پانچ وکٹیں معمولی سکور میں گر جاتی ہیں۔ کوچز یہی جواب دیتے رہے کہ جی اس پر کام ہو رہا ہے ۔پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف جو آخری ہوم سیریز کھیلی تھی اس میں بھی یہ ڈرامے تین دفعہ دہرائے گئے تھے۔ آج میرپور ڈھاکہ میں پاکستان نے ایک بار پھر افرا تفری پہچان کروادی بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم ایک موقع پر ایک بہترین کمانڈنگ پوزیشن پر تھی اور لگتا تھا کہ بنگلہ دیش کے 413 رنز کے جواب میں ایک بہتر ٹوٹل سکور کر کے ایک اچھی برتری حاصل کر لے گی لیکن ہوا کیا۔ یہ کہ کھیل کے دوسرے روز پاکستان ایک موقع پر اس کا 210 رنز پر ایک ہی کھلاڑی آؤٹ تھا۔ یہاں ڈیبیو کرنے والے آذان اویس نے وکٹ گنوائی ۔تسکین احمد نے انہیں نجم الحسین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ ڈیبیو پر سنچری کرنے والے پاکستان کے 14ویں اور دنیا کے 120 ویں کھلاڑی بنے ۔165 گیندیں کھیلیں۔ 14 خوبصورت چوکے لگائے اور 103 رنز بنا کر وہ آؤٹ ہوئے۔ اب یہ سنچری میکر کھلاڑی جب آؤٹ ہو کر جائے تو ٹیم کے ڈریسنگ روم اور ساتھی کھلاڑیوں کا اعتماد آسمانوں پر ہوتا ہے لیکن ہوا اسکے برعکس۔اس کے تھوڑی ہی دیر کے بعد پاکستان کے انتہائی منجھے ہوئے کپتان شان مسعود صرف 9 رنز بنا کر شادمان اسلام کو کیچ دے گئے۔ بولر تسکین احمد تھے ۔17 بالز پر 9رنز کر سکے۔ ابھی پاکستانی فینز اس جھٹکے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک رنز کے اضافے سے سعود شکیل صفر پر آؤٹ ہوئے ۔انہیں حسن مرزا نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔تجربہ کار پیٹرز کی آنیاں جانیاں دیکھ کر ڈیبیو پر 60 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود پاکستان کے ایک اور کھلاڑی بھی دباؤ کا شکار ہو گئے۔ پانچواں نقصان عبداللہ فضل کا ہوا جو گزشتہ روز سے ناقابل شکست تھے۔ وہ 60 رنز بنا کر مہدی حسن مرزا کا شکار بنے ۔تیج الاسلام نے کیچ لیا۔ انہوں نے 120 گیندیں کھیلیں اور 60 رنز بنائے۔ سات چوکے لگائے۔ ایک چھکا لگایا ۔یوں اب 20 رنز کے اضافے سے پاکستان کی چار وکٹیں گر گئیں اور سکور 210 رنز ایک وکٹ سے یک دم دیکھتے ہی دیکھتے 230 رنز پانچ وکٹ ہو گیا ۔لنچ میں تھوڑی دیر باقی تھی ایسے میں تجربہ کار بیٹرز محمد رضوان اور سلمان علی آغا نے مزید نقصان نہ ہونے دیا اور پاکستان نے لنچ بریک کیا 251 رنز پانچ وکٹ۔ اس کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے تھوڑا سا تیز کھیل پیش کیا اور سکور کو بڑھاتے گئے یہاں تک کہ دونوں نے چھٹی وکٹ پر شاندار 119 رنز کا اضافہ کیا اور اس کے لیے انہوں نے قریب 27 اوورز کھیلے۔ محمد رضوان ایک غیر ذمہ دارانہ سٹروک کھیلتے ہوئے کیچ ہوئے۔ انہوں نے 79 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔ 8 چوکے لگائے۔ یہیں پر بارش کی وجہ سے میچ روکنا پڑا۔ چائے کا وقفہ جلدی ہوا اور اس کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو فیصلہ کیا گیا کہ ایک گھنٹے کا اضافی ٹائم ہوگا اگرچہ اس میں زیادہ کھیل ممکن نہیں ہو سکا لیکن جب پاکستان نے دوبارہ شروع کیا تو وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا اور پوری ٹیم 386 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
دوسرے سیٹ بیٹر سلمان علی آغا آؤٹ ہونے والے ساتویں کھلاڑی تھے جو 353 کے سکور پر گئے۔ انہوں نے 58 رنز بنائے ۔94گیندیں کھیلیں۔ 6 چوکے اور ایک چھکا لگایا ۔نعمان علی دو رن بنا سکے۔ شاہین شاہ آفریدی 13 رنز بنا کے گئے اور حسن علی آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی تھے جو 6 رن بنا کے کلین بولڈ ہوئے۔ یوں پاکستان کی ٹیم 100.3 اوورز میں 386 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ بنگلہ دیش کی جانب سے تسکین احمد نے 70 رنز دے کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اسی طرح تیج الاسلام نے 46 رنز دے کردو وکٹیں لیں۔ اصل بولر اسپینر مہدی حسن مرزا تھے ،جنہوں نے 38 اوورز میں 102 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔ یوں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے 27 رنز کی ایک نفسیاتی اور قیمتی برتری حاصل کی۔ اس نے دوسری اننگز شروع کی تھی، ابھی دوسرا اوور مکمل نہیں ہوا تھا کہ امپائرز نے تیسرے دن کا کھیل ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بنگلہ دیش کا سکوت بغیر کسی نقصان کے 7 تھا اور 34 رنز کی اسے مجموعی برتری حاصل ہو گئی ہے۔
