کرک اگین سپیشل رپورٹ۔مایوس کن ٹیسٹ پرفارمنس،موجودہ حالات میں پہلی بار لیجنڈری کرکٹر بول پڑے،انضمام الحق نے لپیٹ دیا۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر موجودہ حالات میں پہلی بار ایک قد کاٹھ کے لیجنڈری قومی کرکٹر نے کھل کر بات کردی ہے۔انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی کسی حد تک لپیٹ دیا ہے۔بابر اعظم کے بارے میں صاف گوئی سے بات کی ہے۔پاکستانی بیٹرز کی ناکامی کی اصل وجہ بتائی ہے۔ساتھ میں حل بتاتے ہوئے ہمسایہ ملک بھارت کے کرکٹ سسٹم کی تعریف کی اور آسٹریلیا کی مثال بھی ساتھ دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کے کس فاسٹ بائولر اور بیٹر کو وہ کیوں اہمیت دیتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش میں دوسرے ٹیسٹ کے 3 دن کے کھیل کے بعد شدید دبائو میں ہے۔ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے 437 رنزکے ہدف کا سامنا ہے اور سیریز بچانے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ساتھ میں ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے مستقبل پر تاریکی کے بادل اور گہرے ہوئے ہیں۔پی سی بی کے کرتا دھرتا بھی اب دبائو میں آئے ہیں۔
دو دہائیوں سے زیادہ محیط کیریئر میں انضمام الحق نے 120 ٹیسٹ میچ کھیلے، جس میں 8830 رنز بنائے اور 245 فرسٹ کلاس میچز میں 45 سنچریاں سکور کیں۔ 1992 ورلڈ کپ فاتح تین کے ممبر بھی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ بیٹرز اور گیند بازوں کو ریڈ بال کرکٹ کھیل کر ہی اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔پاکستان اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آٹھویں نمبر پر ہے اور نویں نمبر پر جانے کا خطرہ موجود ہے ۔
سلہٹ ٹیسٹ،پاکستان کیلئے ریکارڈ ہدف سیٹ،نئی تاریخ یا پھر بدترین تاریخ رقم ہونے والی
انضمام الحق نے مزید کہا کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ملک کا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اور کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلیں۔ اس سے ان کی تیکنیکی بنیاد مضبوط ہوگی، ورنہ یہ اچھا نہیں ہوگا اور ان کی پرفارمنس میں عدم تسلسل واضح رہے گا ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ پہلے مضبوط ہوتی تھی جس سے کھلاڑی اپنی تکنیک اور ذہنی قوت دونوں کو بہتر کرنے کے لیے پچ پر طویل وقت گزارتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ سب کی توجہ ٹی 20 جیسے پیسہ کمانے والے کھیل پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا اگر پاکستانی کھلاڑی زیادہ فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلتے تو وہ اپنی بین الاقوامی کارکردگی برقرار نہیں رکھ سکتے ۔انہوں نے کہا پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا دوسری محدود کرکٹ کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا ہے اور یہی ہماری ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا اس کی نسبت بھارت میں نوجوان کھلاڑی پہلے زیادہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں ۔دیکھیں آئی پی ایل کتنی مقبول ہے لیکن اس کے باوجود ہر نوجوان کھلاڑی رنجی ٹرافی کو اہمیت دیتا ہے۔ نتیجے میں ان کا گھریلو نظام مضبوط ہے ۔انضمام نے اسٹریلیا کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جہاں شیفلڈ شیلڈ جیسے فرسٹ کلاس مقابلوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کی طاقت اور برقرار ہے۔انضمام نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت بینچ کی اچھی طاقت نہیں ہے ۔پاکستان غلط راستے پر ہے۔
بابر اعظم کے بارے میں کہا کہ وہ ظہیر عباس، جاوید میاں داد، محمد یوسف اور یونس خان جیسے ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی طرح پر اثر ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ بابراعظم کا ایلیٹ اثر ان جیسا ہی ہے۔ میں مثبت چیزوں پر توجہ دیتا ہوں۔ موجودہ کھلاڑیوں میں سے جن کی حقیقی معنوں میں تعریف کرتا ہوں، بابر اعظم ان میں نمایاں ہیں۔ ان پر شدید تنقید کے باوجود مجھے ان کا کھیل اور صلاحیت پسند ہے۔ انہوں نے کہا میرے دور سے پہلے اور اس کے دوران ہمارے پاس عالمی معیار کے بلے بازوں کی مسلسل ایک لائن تھی۔ جاوید میاں داد ،ظہیر عباس، سعید انور، سلیم ملک ،اعجاز احمد ،اس کے بعد میں، پھر یونس خان، محمد یوسف، عامر سہیل۔ ایک باقاعدہ سائیکلنگ ریگولر تھی ۔
انضمام نے بھارتی کھلاڑیوں کپیل دیو کے بارے میں کہا کہ وہ بہت ذہین بولر تھے۔ میں ان کے ہاتھوں ورلڈ کپ 92 میں آؤٹ بھی ہوا اور سچن ٹنڈولکرایک مناسب کرکٹر تھے۔ سچائی، لگن ،نظم وضبط اور انتھک محنت کے ساتھ وہ کھیلتے تھے ،جس کی وجہ سے وہ عروج پر پہنچے۔
