سلہٹ۔کرک اگین رپورٹ۔سلہٹ ٹیسٹ،پاکستان کیلئے ریکارڈ ہدف سیٹ،نئی تاریخ یا پھر بدترین تاریخ رقم ہونے والی۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو بنگلہ دیش میں تاریخ کے سب سے بڑے ہدف کے حصول کے چیلنج کا سامنا ہے یا تو نئی تاریخ رقم ہوگی یا بدترین تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف وہ کچھ کر دیا، جو سیریز کے آغاز سے قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔سیریزکا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا اور دوسرے ٹیسٹ میں تیسرے دن کا اختتام پر وہ کمانڈنگ پوزیشن پر ہے۔ تجربہ کار بیٹر مشفیق الرحیم نے اپنے کیریئر کی 14 ویں سنچری سکور کر کے بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف مضبوط ترین پوزیشن پر کھڑا کر دیا۔ میزبان ٹیم نے مہمان ٹیم کو 437 رنز کا بڑا ہدف دیا ہے جو کہ ایک نئی تاریخ ختم کرنے کا منتظر ہو سکتا ہے۔پاکستان نے اپنی فائنل اننگز میں تعاقب کا آغاز کیا اور صرف دو اوورز کا کھیل ہو چکا تھا ۔کھاتہ نہیں کھل سکا۔ صفر پر ہی تھے کہ کم روشنی کی وجہ سے میچ کا تیسرا دن ختم کر دیا گیا۔
مشفیق الرحیم نے کھیل کے تیسرے سیشن میں چائے کے وقفے کے بعد محمد عباس کو چوکا لگا کر اپنی سنچری مکمل کی اور وہ اپنے ملک کی جانب سے سب سے زیادہ 14 ٹیسٹ سینچریز کا ریکارڈ بنانے والے بن گئے ۔اس سے قبل مومن الحق 13 سنچریوں کے ساتھ پہلے نمبر پر تھے۔ مشفیق الرحیم آؤٹ ہونے والے آخری بیٹر تھے ۔بنگلہ دیش کی دوسری اننگز 102.2 اوورز میں 390 رنز پر ختم ہوئی اور اسے مکمل طور پر 436 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ میزبان ٹیم نے پہلی اننگ میں 278 رنز بنائے تھے اور مہمان پاکستان ٹیم 232 رنز بنا سکی تھی۔مشفق الرحیم نے 233 گیندوں پر 137 رنز بنائے جس میں 12 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔دن کے وسطی حصے تک بنگلہ دیش نے محتاط بیٹنگ کی۔ وکٹ کیپر بیٹسمین لٹن داس ایک تاریخ رقم کرنے والے تھے جب وہ پہلی اننگ میں سنچری بنانے کے بعد دوسری میں بھی سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے کیونکہ وکٹ کیپر کے طور پر اگر وہ ایسا کرتے تو تاریخ میں اینڈی فلاوراور رشی پنت کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے تیسرے وکٹ کیپر بن جاتے ، لیکن لٹن 69 رنز کے بعد آؤٹ ہو گئے اور ان کی یہ امید لنچ کے فورا بعد ختم ہوئی۔ لٹن اور مشفیق نے پانچویں وکٹ کے لیے 123 رنز کا سٹینڈ دیا، جس سے بنگلہ دیش نے کھیل اپنے حق میں بدل دیا۔پاکستان نے دن کے آغاز میں ابتدائی کامیابی جلد حاصل کی جب بنگلہ دیش نے 110 رنز تین وکٹ سے اننگ شروع کی تو تو پانچ رنز کے اضافے سے نجم الحسین شانتو جو کہ کپتان ہیں اور اس سیریز میں اچھا کھیل رہے تھے 15 رنز بنا کر خرم شہزاد کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے ۔بس اس کے بعد پھر لٹن داس اڑ گئے اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کا اسکور 238 تھا مہدی حسن مرزا آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے ۔272 کے اسکور پہ وہ آؤٹ ہوئے ۔انہوں نے 19 رنز بنائے ۔پاکستان کو ساتویں کامیابی 349 پر ملی جب تیج الاسلام 22 رنز بنا کر ساجد خان کی گیند پر محمد عباس کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔ تسکین احمد بھی 15 رنز کے اضافے سے 364 کے اسکور پر 6 رنز کر کے چلے گئے۔ حسن علی نے انہیں شکار کیا۔ نویں وکٹ شریف الاسلام کی 383 کے اسکور پر گری جب وہ 12 رنز بنا کر ساجد خان کا شکار بنے۔ بنگلہ دیش کی آخری اور دسویں وکٹ مشفیق الرحیم کی 102.2 اوورز کے بعد گری جب انہیں 137 کے سکور پر ساجد خان نے محمد عباس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 23 اوور میں 66 رنز دے کر ایک وکٹ لی ۔خرم شہزاد جنہوں نے پہلی اننگ میں 81 رنز دے کر 4 وکٹیں لی تھیں، اس اننگ میں بھی وہ ٹاپ وکٹ ٹیکر رہےہیں ۔20 اوورز میں 86 رنزدے کر 4 وکٹیں ان کے حصے میں آئیں۔میچ میں 167 رنز دے کر 8 وکٹیں کامیابی کی بنیاد فی الحال نہیں۔حسن علی 23 اورز میں 83 رنز دے کے دو کھلاڑی آؤٹ کر گئے ۔ساجد خان مہنگے بولر رہے۔ 35.2 اوورز میں 126 رنز کے عوض تین وکٹیں لے سکے۔
سلہٹ سمیت بنگلہ دیش کے تمام سنٹرز کا چوتھی اننگ میں کامیاب ہدف کا ریکارڈ
تاریخ اس پوزیشن پر میزبان ٹیم کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ سلہٹ نے پچھلے پانچ ٹیسٹوں میں چوتھی اننگز کا صرف ایک کامیاب تعاقب دیکھا ہے، زمبابوے کی گزشتہ سال بنگلہ دیش کے خلاف تین وکٹوں سے جیت، جب اس نے 174 رنز کا کامیابی سے تعاقب کیا۔
بنگلہ دیش نے خود دردناک یادیں برداشت کی ہیں، جن میں زمبابوے سے 2018 میں سلہٹ کے افتتاحی ٹیسٹ میں 321 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے 151 رنز کی شکست اور 2024 میں سری لنکا کے خلاف 511 رنز کیلئے 328 رنز کی عبرتناک شکست شامل ہے۔ 2023 میں، نیوزی لینڈ اسی مقام پر 332 رنز کا تعاقب کرنے میں ناکام رہا، اسے 150 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بنگلہ دیش کے تمام ٹیسٹ میچوں میں م کسی بھی مقام پر صرف ایک بار کسی ٹیم نے 350 سے زیادہ کا کامیابی سے تعاقب کیا ہے ، جب کائل میئرز نے ویسٹ انڈیز کو 2021 میں 395 کے شاندار تعاقب میں مدد دی،وہ میچ چٹاگرام میں تھا۔
پاکستان جیتا تو یہ اوپر کی تاریخ تبدیل ہوگی اور ہارا تو اپنے لئے بد ترین تاریخ رقم کروائے گا۔جن میں بنگلہ دیش سے مسلسل 4 ٹیسٹ ہارنا،مسلسل 2 سیریز ہارنا،ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 9 ویں نمبر پر واپس آنا جیسی اہم دردناک باتیں نمایاں ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان نے اب تک کا سب سے زیادہ 377 رنز کا تعاقب کیا، جو پالے کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف حاصل کیا۔
عالمی ریکارڈ 414 رنز کے کامیاب ہدف ہے۔پاکستان کو عالمی ریکارڈ بنانا ہوگا۔
