پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی دراصل اس تسلسل کا حصہ تھے جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں 2022 کے بعد نازل کیا گیا تھا۔ جی ہاں۔
رمیز راجہ کو ہٹائے جانے کے بعد نجم سیٹھی سیاسی کرسیوں کی کشمکش کے ساتھ آئے لیکن ٹک نہ سکے کیونکہ سیاسی کرسی کی طرح پی سی بی چیئرمین کی چیئر بھی ہچکولے کھاتی رہی ۔ذکا اشرف آئے اور پھر محسن نقوی ۔
محسن نقوی سے قبل نجم سیٹھی اور ذکا اشرف وہ کام کر چکے تھے جس کا یہ مینڈیٹ لے کر آئے تھے۔ پاکستان کے کپتان اڑا دیے گئے تھے۔ ٹیم کے کپتانوں، اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا گیا تھا اور محدود اوورز اور ٹیسٹ کرکٹ کے فارمیٹس کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان محسن نقوی کی آمد سے قبل بھارت میں ہونے والا ورلڈ کپ ہارا تھا اور یہ وہی تسلسل تھا جسے محسن نقوی آگے بڑھا رہے تھے لیکن محسن نقوی نے ایک کمال یہ کیا کہ انہوں نے آتے ہی محدود اوورز فارمیٹ کے کپتان بدلے۔ کبھی بابر کو لایا، ہٹایا گیا۔کبھی شاہین آفریدی کو لگایا ۔ہٹایا پھر لگایا ۔کبھی رضوان کو لگایا، ہٹایا اور پھر شاہین آفریدی کو دوبارہ لگایا۔ محدود اوورز فارمیٹ میں یہ تجربے ان کے کام نہ آئے ۔ایسا لگا جیسے ہر ناکامی کے بعد انہیں ایک نیا فیصلہ اور ایک نیا کندھا درکار تھا اور کوچنگ سٹاف میں یہ چیزیں نظر آئیں۔ اچھا ریکارڈ رکھنے والے ناموں کا استعمال ہوا لیکن نتیجہ دھاک کے تین پات نکلا۔
محسن نقوی کے دور میں پاکستان نے دو آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلے ۔ایک 2024 میں اور ایک 2026 میں اور حیران کن طور پر پاکستان پہلی بار ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا اور دوسرے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں سپرایٹ سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ پھر عرصے بعد ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جس کا پاکستان دفاعی چیمپئن تھا ،اپنے ملک میں کھیل رہا تھا ۔محسن نقوی کے دور میں پاکستان پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا۔ محدود اوورز کے فارمیٹ میں کپتانوں کی تبدیلی ان کے کام نہ آئی بلکہ ٹیم کا اتحاد اور کامیابی کے ٹریک پر چلتی تیز ٹرین تباہ و برباد ہو گئی۔
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ بنگلہ دیش میں دفن،سلہٹ میں ناکامی،مسلسل دوسری سیریز ہارگئے
ٹیسٹ کرکٹ کی بات کریں تو انہوں نے شان مسعود جو کہ ان سے قبل ان کے پیش رو مقرر کر گئے تھے ان کو نہیں چھیڑا۔ ایسا لگا شان مسعود کا پیج بھی وہی تھا جو محسن نقوی کا پیچ تھا۔ نتیجہ محسن نقوی کے دور میں کھیلے گئے پاکستان کرکٹ ٹیم تاریخ کے 13 ٹیسٹ میچوں میں سے صرف چار جیتی ہے اور 9 ہاری ہے ۔ کپتان شان مسعود کوئی ٹیسٹ میچ ڈرا نہیں کھیل سکے۔ بنگلہ دیش سے چار ٹیسٹ میچ ہارے۔ بنگلہ دیش جیسے ملک سے چار میچز ہارنے والا پاکستان دنیا کا پہلا ملک بنا اور دو سیریز اوپر تلے ہارنے والا بھی پہلا فل ممبر ملک بنا۔ پاکستان جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز ہارا۔ ہوم گراؤنڈ پر ویسٹ جیسی کمزور ٹیم کے خلاف نہ جیت سکا ۔ایک ایک سے ڈرا کھیلا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم گراؤنڈز پر نہ جیتا۔ اب بنگلہ دیش میں دونوں میچ ہار گیا۔ صرف انگلینڈ سے ہوم سیریز دو ایک سے جیتی وہ بھی گرم گرم ہیٹر اور عجیب و غریب مشینیں لگا کے انگلش کھلاڑیوں کو کو حیران کر کے پاکستان نے 2 میچز کسی طرح جیتے، تو پاکستان اکلوتی سیریز جیتا۔ نقوی کے دور میں ملک سے باہر ایک سیریز نہیں جیت سکا بلکہ ملک سے باہر ایک ٹیسٹ میچ بھی نہیں جیت سکا ۔
بنگلہ دیش کی چھلانگ،پاکستان ٹیسٹ رینکنگ اور پوائنٹس ٹیبل پر اور نیچے
یہ ہے محسن نقوی کا دور ۔محدود اوور کی کرکٹ ون ڈے کرکٹ ہو یا ٹی ٹونٹی کرکٹ ہو۔ یا پھر ٹیسٹ کرکٹ ہو ۔تباہی ہر طرف رہی لیکن تجربے محدود اوورز کی کرکٹ میں تو بہت کیے گئے اور ٹیسٹ کرکٹ میں نہیں کیے گئے ۔وہ ایک پیج بھی اب لگتا ہے زیادہ نہیں چلنے والا۔
