تحریر: حافظ محمد عمران عثمانی
،آئینہ تروبہ کا، چہرہ پاکستان کرکٹ کا: سستی میڈیا ہائپ، مینوفیکچرڈ ریکارڈز اور انگلینڈ میں سچائی کا اگلا محاذ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہی لے لیں۔یہ 2026 ہے، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے پہلے ویسٹ انڈیز کے سابق عظیم کھلاڑی اور اپنے دور کے صاحبِ زرق برق کرکٹر سر گیری سوبرز کی دنیا سے رخصتی کی افسوسناک خبر ملی۔ جہاں اس دلدوز خبر نے ہمیں افسردہ کیا، وہاں یہ خبر ہمیں کئی دہائیاں پیچھے بھی لے گئی، جب 1980 سے 1990 تک پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ کرکٹ کا دنیا بھر میں طوطی بولتا تھا اور ان دونوں ٹیموں کا ریکارڈ باقی تمام ممالک کے مقابلے میں شاندار تھا۔
اس دور میں پاکستان کے پاس گریٹ نامور فاسٹ بولرز، پیس بیٹریاں اور نڈر کپتان تھے، جبکہ ویسٹ انڈیز بھی اسی پیس اٹیک بیٹری کی وجہ سے عالمی کرکٹ پر راج کر رہا تھا۔ چنانچہ اس عشرے میں، جو 1980 اور 1990 کے درمیان تھا، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کھیلی گئی تمام سیریز انتہائی سنسنی خیز اور کانٹے دار ہوا کرتی تھیں، چاہے وہ ان دونوں ممالک میں کھیلی جائیں یا کسی نیوٹرل وینیو پر۔ اس کے برعکس آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک ویسٹ انڈیز سے پوری طرح اپنے ملک میں بھی اور ان کے ملک میں بھی مرتے اور ہارتے رہے تھے۔ یہ ایک ایسی تاریخ تھی جو کرکٹ کی اس روایتی “سرد جنگ” کی یاد دلاتی ہے۔ جانے والے اپنی موجودگی کا احساس تب کراتے ہیں جب وہ چلے جاتے ہیں۔ سر گیری سوبرز گئے تو ہمیں یاد آیا کہ ہمارا کرکٹ کا عروج بھی چلا گیا۔ یہ غم شاید پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ایک ایسا مشترکہ نوحہ تھا، جسے گیری سوبرز نے اس سیریز کے آغاز سے ذرا قبل آنکھیں موند کر کرکٹ برادری اور فینز کو یاد دلایا۔ ان کا شکریہ!
شاید ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اس احساس کو زیادہ شدت سے محسوس کیا اور انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو مکمل آؤٹ کلاس کر دیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم شاید اس خوش فہمی میں تھی کہ قیادت کی تبدیلی سے حالات بھی بدل جائیں گے۔ گزشتہ 30 ماہ میں سابق کپتان شان مسعود کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نے 16 ٹیسٹ میچوں میں سے 12 میں شکست کھائی اور گزشتہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سائیکل کا اختتام نویں اور آخری نمبر پر کیا تھا۔ اتفاق سے اب دوبارہ کپتان بدلا اور موجودہ کپتان بابر اعظم آئے، لیکن پاکستان اب اس نئی سائیکل میں بھی نویں نمبر پر ہی کھڑا تھا۔ ویسٹ انڈیز نے شاید سوچا کہ انہیں نویں نمبر پر مزید کنفرم کر دیا جائے، چنانچہ پاکستان کو پہلا میچ ہرا کر وہ اب گرین شرٹس سے میلوں آگے نکل چکے ہیں۔
تروبہ کا برائن لارا کرکٹ اسٹیڈیم ویسٹ انڈیز کا تیرواں ٹیسٹ سینٹر کیا بنا، میزبان کھلاڑیوں کے لیے جیسے کامیابی کی جنت بن گیا۔ ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز میں 311 رنز اسکور کیے۔ جواب میں پاکستان اپنی روایتی اور “حسبِ عادت” غیر مستقل مزاجی کا شکار ہوا۔ ایک وقت پر 244 رنز تک گرین شرٹس کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ تھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے پوری ٹیم 282 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان کو 29 رنز کا بڑا خسارہ اٹھانا پڑا۔ دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز نے ویسٹ انڈیز کو 181 رنز پر محدود تو کیا، لیکن وہ مہمان ٹیم کو نفسیاتی اور اعصابی کشمکش سے بھرپور 211 رنز کا ایک ایسا ہدف دے گئے جو چوتھی اننگز میں پہاڑ ثابت ہوا۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ چوتھے روز کے ایک مختصر سے سیشن میں قومی ٹیم نے 6 وکٹیں گنوائیں، جبکہ اس سے قبل کے محض ایک گھنٹے کے کھیل میں 3 اہم کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ آخری سیشن میں محض ایک وکٹ کے نقصان پر پوری ٹیم 120 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی اور پاکستان یہ میچ 90 رنز کے بھاری مارجن سے ہار گیا۔
اس عبرتناک شکست کے بعد موجودہ کپتان بابر اعظم کی 58 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز ان کے ناقدین کے لیے ایک بڑا طعنہ بن گئی ہے۔ پہلی اننگز میں شاندار سنچری بنانے والے سابق کپتان شان مسعود دوسری اننگز میں انگلی میں فریکچر کے باوجود آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے، لیکن کریز پر موجود بابر اعظم نے ان کی اس شدید تکلیف اور جانفشانی کا کوئی احساس نہ کیا۔ شان مسعود کے آنے سے پہلے بھی اور ان کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی، بابر اعظم نے مین اسٹرائیک اینڈ سنبھالنے اور ٹیم کو فرنٹ فٹ سے لیڈ کرنے کے بجائے نان اسٹرائیک اینڈ پر محفوظ ہو جانا زیادہ بہتر سمجھا۔ حتیٰ کہ جب فاسٹ بولر محمد عباس کریز پر آئے اور آخری وکٹ کی شراکت قائم ہوئی، تب بھی بابر اعظم کی یہ بے پرواہی اور خود غرضانہ اپروچ جاری رہی۔ میدان میں صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر حریف بولرز کا مقابلہ کرنے سے ڈر رہے تھے اور ذمہ داری لینے سے مکمل گریزاں تھے۔ کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ ایک حقیقی لیڈر اور بہادر کپتان ایسے اعصاب شکن مواقع پر اسٹرائیک ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے، باؤنڈریز اسکور کرتا ہے اور اوور کی پانچویں یا چھٹی گیند پر سنگل لے کر ٹیل اینڈرز کو محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن یہاں کھیل بالکل الٹا تھا۔ دراصل پاکستان کی اس 90 رنز کی شرمناک شکست سے بہت پہلے، اس کا سب بهڑا بیٹر اور موجودہ کپتان بابر اعظم ذہنی طور پر ہار مان چکا تھا۔
ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر سنچری اسکور کرنے کی کرکٹ کی دنیا میں ہمیشہ ایک بڑی قیمت اور اہمیت ہوا کرتی ہے، لیکن اس سنچری کا کیا فائدہ جب آپ کی ٹیم میچ ہی ہار جائے؟ ماضی میں حنیف محمد جب ٹرپل سنچری بناتے تھے تو پاکستان کو شکست سے بچاتے تھے، یا پھر جاوید میانداد اور عمران خان جیسے عظیم کھلاڑی فتح کا راستہ ہموار کرتے تھے۔ یہاں تو شان مسعود کی سنچری کے فوری بعد ان کے حاشیہ نشینوں نے ان کی عظمت کے گن گانا شروع کیے، لیکن قدرت نے محض 24 گھنٹے بعد ہی پوری ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ انہیں بے نقاب کر دیا۔ دوسری طرف ایک بوڑھے فاسٹ بولر محمد عباس نے اس میچ میں اپنی اوسط اور وکٹوں کے حساب سے کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا، تو پاکستان کے ٹاپ میڈیا ہاؤسز نے یہ خبر چلا دی کہ انہوں نے عمران خان کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اندازہ کریں کہ 30 ٹیسٹ میچوں میں صرف 116 وکٹیں لینے والے عباس کا موازنہ عمران خان جیسے عظیم آل راؤنڈر سے کیا رہا ہے! جو بولر عمران خان کا ریکارڈ توڑنے کا دعویٰ کرے، کیا وہ ویسٹ انڈیز میں ایسی مار کھا کر باہر نکلتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان اس کھلاڑی کے لیے بھی ہے اور اس میڈیا ہاؤس کے لیے بھی جس نے سستی ہائپ بنانے کے لیے یہ خبر شائع کی۔
اس شرمناک شکست کے بعد رہی سہی کسر آئی سی سی (ICC) کی تادیبی کارروائی نے پوری کر دی، جس نے میچ کے دوران غیر ورزشی اور جارحانہ رویہ دکھانے پر خرم شہزاد اور محمد عباس پر بھاری جرمانہ عائد کیا، سخت تنبیہ جاری کی اور ان کے کھاتے میں ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ (Demerit Point) ڈال دیا۔ آئی سی سی کا یہ ایکشن ثابت کرتا ہے کہ اپنے تئیں اسٹار بننے والے یہ کھلاڑی صرف عارضی موسم کی پیداوار ہیں، یہ پاکستان کرکٹ کا پائیدار مستقبل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کرکٹ کی یہ پرانی اور بدنصیب روایت ہے کہ جب بھی ٹیم عبرتناک شکست سے دوچار ہوتی ہے، تو بڑے بڑے کپتان اور سینئر کھلاڑی پریس کانفرنس سے غائب ہو جاتے ہیں اور میڈیا کے تیکھے سوالات کا سامنا کرنے کے لیے جونیئر کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنا کر آگے بھیج دیا جاتا ہے۔
تروبہ ٹیسٹ میں بدترین ناکامی کے بعد اب دوسرے ٹیسٹ کی تیاریاں شروع ہیں، جس میں محض تین دن باقی ہیں۔ اتوار سے شروع ہونے والے اس اہم معرکے کے لیے پاکستانی الیون میں دو بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق مینیجمنٹ میں شدید تبادلہ خیال جاری ہے، جس کے تحت فریکچر کے شکار شان مسعود کی جگہ عبداللہ شفیق کو فائنل الیون کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بولنگ اٹیک کو تقویت دینے کے لیے ایک اسپنر، زاہد محمود کو شامل کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ دوسری طرف عمر گل اور سرفراز احمد جیسے نام نہاد سابقین اور عہدیداران، جو اپنے نام کے برعکس پاکستان کرکٹ کے لیے کوئی تعمیری ‘سہارا’ ثابت نہیں ہو سکے، اب بورڈ پر محض ایک بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اپنے کھیل کے حقیقی اور عظیم ہیروز کی نافرمانی اور ناقدری کو اپنا شیوہ بنا لیں، تو پھر موجودہ دور کا یہ جدید کھیل آپ کو عالمی سطح پر عزت کیسے دے سکتا ہے؟ اس بنیادی نقطے کو مقتدر حلقوں کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ کو سستی ہائپ، سفارشی مافیا اور کاغذی عہدیداروں کی نہیں، بلکہ اس کھیل کو میرٹ پر چلانے والے مخلص اور اہل لوگوں کی ضرورت ہے، ورنہ چوتھائی صدی پرانا یہ زوال اب مستقل مقدر بن جائے گا۔
پاکستان توقعات کے عین مطابق پہلا ٹیسٹ ہارگیا،ویسٹ انڈیز کی تاریخی جیت
میری دلی خواہش تھی کہ میں اس ٹیسٹ سیریز کو ویسٹ انڈیز کے پریس باکس میں بیٹھ کر براہِ راست کور کرتا، اور سال 2025 میں ملتان میں ہونے والے دو ٹیسٹ میچوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو یاد دلاتا کہ دیکھو، میں تو آج بھی اپنے پیشہ ورانہ وقار کے ساتھ یہیں موجود ہوں، لیکن تم لوگ اور تمہارا کھیل اب بھی وہیں زوال کے اسی گڑھے میں کھڑا ہے! ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی سرزمین پر آخری بار 35 سے 36 سال پہلے کوئی ٹیسٹ میچ جیتا تھا، اور اب وہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر پورے 26 سال بعد پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تاریخ رقم کرنے کے قریب کھڑا ہے۔ حالات چاہے جو بھی ہوں، میں میدان میں ہوں یا نہ ہوں، میری پوری کوشش اور اگلا ہدف یہی ہے کہ میں انگلینڈ میں آنے والی پاکستان کی ٹیسٹ سیریز کی لائیو کوریج کروں۔ میں ایجبسٹن برمنگھم، لارڈز لندن، اور ہیڈنگلے لیڈز کے تاریخی پریس باکسز میں بیٹھ کر مینیجمنٹ اور کھلاڑیوں کے سامنے ایسے تیکھے، تیز اور تلخ سوالات رکھوں گا جو پاکستان کرکٹ کی حقیقی ترقی اور اصلاح میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہم حق اور سچ کی صحافت کے لیے اپنی یہ مخلصانہ کوشش ہر حال میں جاری رکھیں گے، کیونکہ سچی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے، کامیابی یا ناکامی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
