تحریر۔عمران عثمانی
پاکستان کرکٹ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے سنگین اور تاریک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں مسئلہ اب انفرادی پرفارمنس کا نہیں رہا۔ اکا دکا انفرادی چمک تو کھلاڑیوں کی ذاتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کبھی کبھار نظر آ ہی جاتی ہے، لیکن اصل المیہ اس اجتماعی کارکردگی کا جنازہ نکلنا ہے جو گزشتہ دو سالوں سے پاکستان کرکٹ کا مقدر بن چکا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں عبرتناک شکست کا داغ اور اب دوسرے ٹیسٹ سے قبل سیریز ہارنے کا خوف پاکستان کے ریڈ بال فارمیٹ پر کسی ڈراؤنے سائے کی طرح چھایا ہوا ہے۔
اجتماعی ناکامی کا مستقل پیٹرن اور اعصاب کا بحران
گزشتہ دو سالوں میں ہماری کرکٹ کے تباہ ہونے کا ایک مستقل اور شرمناک پیٹرن بن چکا ہے۔ گرین شرٹس ایک اچھی اور مستحکم پوزیشن پر ہوتی ہیں، حریف ٹیم کو مکمل طور پر قابو کیا ہوا ہوتا ہے، لیکن پھر آخری لمحات میں اعصاب کا ایسا بحران پیدا ہوتا ہے کہ بازی یکدم پلٹ جاتی ہے۔ جیتی ہوئی بازی حریف کی جھولی میں ڈال کر خود تماشائی بن جانا اور حریف کو اپنے اوپر حاوی کر لینا اب ہماری کرکٹ کی مستقل پہچان بن چکا ہے۔
اعلیٰ حکام کی بحث۔ کیا گڈ گورننس کا اصول کرکٹ پر لاگو نہیں ہوتا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین، جو ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں، انہوں نے ملک میں “گڈ گورننس” کی بات کی، اور اگلے ہی روز ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کے ترجمان نے بھی اسی موقف پر مہر ثبت کی۔ ملک کی اعلیٰ ترین سطح پر یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ گڈ گورننس کے بغیر ملکی معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہاں بنیادی اور چبھتا ہوا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس گڈ گورننس کا اطلاق کرکٹ بورڈ پر نہیں ہوتا؟ کیا پاکستان کرکٹ کی گورننس ٹھیک چل رہی ہے؟ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جب ملک کی سیاسی و انتظامی باگ ڈور سنبھالنے والوں سے خود اپنا ملکی نظام نہیں سنبھل پا رہا، تو وہ کرکٹ کے اس فرسودہ اور دیمک زدہ سسٹم کو خاک ٹھیک کریں گے؟
عاقب، مصباح اور سرفراز،سابق کرکٹرز بطور سیاسی ڈھال
سچی بات یہ ہے کہ گورننس کا مطلب صرف چیئرمین پی سی بی کی کرسی نہیں، بلکہ اس کے نیچے چلنے والا پورا کرکٹ ڈھانچہ ہے۔ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں وقت کے ساتھ صرف چہرے بدلتے ہیں، نظام کی سڑاند وہیں رہتی ہے۔ جب بھی میدان میں ٹیم رسوا ہوتی ہے، تو اصل گورننس چلانے والے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے “قربانی کا بکرا” ڈھونڈ لاتے ہیں۔ کبھی کپتان کی قربانی دی جاتی ہے، تو کبھی سلیکشن کمیٹیوں کا ایک نیا سرکس سجایا جاتا ہے۔
کمیٹیاں بدلتے بدلتے اب سارا مدعا گزشتہ دو سالوں سے عاقب جاوید پر آ کر ٹک گیا ہے۔ پی سی بی مسلسل ان کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور اس اکھاڑے کو جاندار دکھانے کے لیے کبھی مصباح الحق اور کبھی سرفراز احمد جیسے سابق کپتانوں کو شامل کر کے نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ لیکن ان تمام چہروں کے باوجود سچائی یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کا گراف مسلسل پاتال کی طرف گر رہا ہے۔ یہ نامور سابق کرکٹرز دراصل بورڈ کے اربابِ اختیار کے لیے ایک سیاسی ڈھال کا کام کرتے ہیں، جن کے چہروں کے پیچھے اصل گورننس والے اپنے گناہ اور نااہلی چھپاتے ہیں۔
کوچز کی میوزیکل چیئر اور سیاسی چہروں کا راج
یہی تماشہ ہمیں کوچز کی تبدیلی میں بھی نظر آتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں گرانٹ بریڈ برن، محمد حفیظ، گیری کرسٹن، جیسن گلسپی، عاقب جاوید اور پھر مائیک ہیسن تک—کوچز کو ایسے بدلا گیا جیسے تاش کے پتے ہوں! اتنے شدید عدم استحکام اور بے یقینی کے ماحول میں دنیا کی کوئی بھی ٹیم پرفارم نہیں کر سکتی۔ یہاں یہ بنیادی حوالہ دینا ضروری ہے کہ کرکٹ کو چلانے کے لیے ہمیشہ ایک نامور اور پروفیشنل سابق کرکٹر ہی موزوں ہوتا ہے، کیونکہ وہ کھیل کی باریکیوں اور گراؤنڈ کی حقیقتوں کو سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس، جب سیاسی اور سفارشی راستوں سے آنے والے چہرے کرکٹ بورڈ کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھتے ہیں، تو میرٹ کا قتلِ عام ہوتا ہے اور ذاتی پسند ناپسند کا راج قائم ہوتا ہے، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔
اعداد و شمار کی گواہی۔پاتال میں گرتی بیٹنگ لائن اور بے بس بولرز
موجودہ تنزلی کی گواہی وہ کاٹ دار اعداد و شمار دے رہے ہیں جو کرکٹ کے زوال کی سچی داستان سناتے ہیں۔ اگر ہم دسمبر 2024 سے لے کر اب تک کی کارکردگی پر نظر ڈالیں، تو پاکستان نے تین سنچریاں اور 26 نصف سنچریاں تو درج کی ہیں، لیکن ان کی 18 اننگز میں سے صرف چار اننگز ایسی ہیں جن میں دو یا اس سے زیادہ پچاس پلس اسکور بنے، جبکہ سات اننگز میں صرف ایک کھلاڑی پچاس کا ہندسہ عبور کر سکا۔ اس پورے عرصے میں صرف ایک بار ایسا ہوا کہ کسی پاکستانی بلے باز نے پچاس رنز بنائے ہوں اور وہ ناٹ آؤٹ رہا ہو، جیسا کہ بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں 58* رنز بنا کر کیا۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ہماری ٹیل اینڈرز (نمبر 8 سے 11) کی بیٹنگ لائن کی ہے، جو کریز پر آتے ہی تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔ دسمبر 2024 سے اب تک، پاکستان کے نمبر 8 سے 11 کے بلے بازوں نے محض 8.81 کی شرمناک اوسط سے صرف 467 رنز بنائے ہیں، جو دنیا کے تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں سب سے کم ترین اوسط ہے۔ اس دوران پاکستانی لوئر آرڈر کا 19 مرتبہ صفر (Duck) پر آؤٹ ہونا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کی اننگز کتنی تیزی سے دم توڑتی ہے۔ اس کے برعکس، جب حریف ٹیمیں پاکستان کے خلاف کھیلتی ہیں تو ان کے ٹیل اینڈرز دیوار بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے خلاف جنوبی افریقہ کے نمبر 8-11 کے بلے بازوں کی اوسط 25.88 تھی، اور ویسٹ انڈیز کی اوسط 21.11 رہی۔ یہی حال ہماری بولنگ لائن کا بھی ہو چکا ہے، جو حریف ٹیم کے چوٹی کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کے بعد ان کے ٹیل اینڈرز کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے اور آخری لمحات میں لمبی پارٹنرشپس بنوا کر میچ ہاتھ سے گنوا دیتی ہے۔
ان لرزہ خیز اعداد و شمار اور حالات سے صاف واضح ہے کہ ہمارا پورا کرکٹ ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا اور گل سڑ چکا ہے۔ اگر ملکی سطح پر اعلیٰ حکام یہ مانتے ہیں کہ گڈ گورننس کے بغیر بقا ممکن نہیں، تو پی سی بی کو بھی اس آئینے میں اپنا داغدار چہرہ دیکھنا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کپتان، کوچز اور سابق کرکٹرز بدلنے کے سستے لالی پاپ اور ڈرامے بند کیے جائیں، سیاسی اثر و رسوخ کا خاتمہ کر کے کرکٹ کے پورے اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، ورنہ چہرے بدلتے رہیں گے اور شکست کا یہ سفر یوں ہی جاری رہے گا۔
