دنیائے کرکٹ کی 8 ٹاپ ٹیموں کے 332 کپتانوں میں پاکستان کیلئے کیسی شان،شان مسعود ناکام ترین کپتان،مکمل ریکارڈ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے ناکام ترین کپتان شان مسعود اس لسٹ میں ٹاپ پر آگئے ہیں۔اڑھائی سال سے پاکستان کی قیادت کرنے والے شان مسعود پاکستان سے باہر کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکے۔ سیریز جیتنا تو دور کی بات ہے اور اپنے ملک میں بھی صرف ایک سیریز جیتی ہے اڑھائی سالوں میں۔
مسعود کا ٹیسٹ کپتانی کا کیریئر بابراعظم کو ہٹائے جانے کے بعد 2023 کے آخر اور 2024 کے شروع سے شروع ہوتا ہے، جب پاکستان نے آسٹریلیا کا دورہ کیا اور تین میچز کی سیریز میں کلین سوئپ شکست شان مسعود کے استقبال کے لیے سامنے آئی۔یہی نہیں پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کو اس کے بعد 8 ماہ کا وقفہ ملا اور پھر اس کے بعد سیریز تھی 2024 میں بنگلہ دیش کے خلاف۔ پاکستان تاریخ میں پہلی بار بنگلہ دیش سے نہ صرف پہلا ٹیسٹ ہارا بلکہ پہلی ٹیسٹ سیریز دو صفر سے ہار گیا۔ یہ نشان امتیاز بھی شان مسعود کے ساتھ رہا۔اگلی سیریز پاکستان ہی میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان میں۔ ہوئی۔ ملتان میں پہلے ٹیسٹ میں بدترین انجام سے پاکستان دوچار ہوا۔ اس کے بعد پی سی بی نے راتوں رات گرم موسم میں گرم گرم ہیٹر لگا کے پچ کے نقشے بدلے اور پھر پاکستان نے ملتان اور پنڈی کا ٹیسٹ جیت کر سیریز دو ایک سے اپنے نام کی۔ یہ شان مسعود کی کپتانی میں پاکستان نے اکلوتی ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔اس کے بعد پاکستان نے دورہ جنوبی افریقہ کیا اور پاکستان کی ٹیم دونوں میچز شان مسعود کی کپتانی میں ہار گئی، وطن واپسی پر ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم یہاں موجود تھی ۔ملتان میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہوئی۔ ایک ایک سے ڈرا رہی۔ شان مسعود ٹرافی اٹھانے میں ناکام رہے۔
ویسٹ انڈیز سے بھی ریڑا پچ بنا کر پہلا ٹیسٹ جیتا لیکن لو اپنے ہی دام میں صیاد آگیا کہ مصداق ویسٹ انڈیز کے اسپنر نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی اسپن گولی انہی کو کھلا دی ۔ یہی کچھ جنوبی افریقہ نے کیا اور سیریز ایک ایک سے برابر ہوئی۔۔شان کا ایک منفرد ریکارڈ، بلکہ ورلڈ ریکارڈ یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے ایک سو پچاس سالہ تاریخ میں اگر آٹھ ٹاپ ٹیموں کو دیکھیں، (بنگلہ دیش، افغانستان، آئرلینڈ ) کو نکال دیں تو ٹاپ8 ٹیموں کے 332 کپتان ہیں اور ان میں شان ماشااللہ سے پہلے کپتان ہیں جو ابتدائی سولہ میچ میں سے بارہ ہارے ہیں
شان مسعود کی قیادت میں پاکستان نے اگلی ٹیسٹ سیریز ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی۔ یہ نئے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل 2025۔ 27 کا آغاز تھا۔ جنوبی افریقہ سے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے ڈرا رہی۔اب یہ دوسری سیریز ملک سے باہر انہوں نے جا کے بنگلہ دیش جیسے ملک میں کھیلی۔ وہاں بھی وہ دو صفر سے ہار گئے۔ اور ٹرافی اٹھانے میں ناکام رہے۔اس کا مطلب کیا ہے ؟شان مسعود کی کپتانی میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 16 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں. صرف چار جیتے ہیں اور 12 ہارے ہیں. یہ ٹیم کوئی ٹیسٹ میچ ڈرا تک نہ کھیل سکی. ملک سے باہر کوئی سنگل ٹیسٹ نہیں جیت سکی ملک سے باہر ٹیسٹ سیریز نہیں تھی۔ان کی کپتانی میں پاکستان نے 7 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں۔ایک جیتی ہے۔چار میں شکست ہوئی اور دو ڈرا ۔پاکستان 2024 کے شروع میں آسٹریلیا میں تین صفر سے ان کی کپتانی میں ہارا۔ ہوم گراؤنڈ 24 میں بنگلہ دیش سے دو صفر سے ہارا۔ ہوم گراؤنڈش پر انگلینڈ سے دو ایک سے جیتا ۔پھر سال کے آخر میں جنوبی افریقہ میں دو میچز کی ٹیسٹ سیریز دو صفر سے ہارا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچز کی سیریز ایک ایک سے ڈرا کھیلی اور پھر 2025 کے ہوم سیزن میں پاکستان جنوبی افریقہ سے ایک سیریز ڈرا کھیل سکا اور اب بنگلہ دیش کے خلاف اس کی سیریز دو صفر سے اپنے انجام کو پہنچی۔
شان مسعود کا اوورال کیریئر کیا ہے۔ 46 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی ایوریج سے ان کے رن 2600 کے آس پاس ہیں ،جبکہ ان کی کپتانی میں جو 16 ٹیسٹ میچز ہوئے۔ اس میں وہ ایک ہزار رنز تک نہیں بنا سکے۔ شاید 985 رنز کیے ۔32 کی درمیانی اوسط ہے۔
پی سی بی جاری رجیم،پاکستان کو 13 ٹیسٹ میں سے 9 ویں شکست،نقوی اور شان کا پیج کیسے ایک
ایمانداری سے آپ اپنے اپ سے سوال کریں۔ آسٹریلیا میں جب انہوں نے پہلی ٹیسٹ سیریز اپنی کپتانی میں کھیلی تھی وہاں جو فیصلے ہوئے تھے اور پاکستان 2 میچز جیت کے قریب آکر ہارا تھا۔ ناقص کپتانی اور غلط فیصلے اس شکست کی وجہ تھی۔ کسی کو نظر نہیں آئے۔ شان مسعود کی کپتانی ہر سیریز میں ایکسپوز ہوتی گئی ۔ایسا لگا جیسے اوروں کی طرح ،ان کا پیج بھی پی سی بی کے پیج کے ساتھ بہت مضبوط تھا اور ہے۔
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ بنگلہ دیش میں دفن،سلہٹ میں ناکامی،مسلسل دوسری سیریز ہارگئے
