عمران عثمانی ۔
بھارت کی ویسٹ انڈیز کے خلاف ریکارڈ کامیابی کے باوجود ان کے اپنے ہیڈ کوچ کوٹم گھمبیر نے ایک قسم کا دھوکا قرار دے دیا۔کرکٹ کا تازہ ترین آرٹیکل ہے کہ ایسی بات کر دی کہ بھارت کی جیت کا جنازہ نکل گیا۔
کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ
بھارت کی ویسٹ انڈیز کے خلاف ریکارڈ ساز کامیابی کے بعد پورا بھارت شاید خوش ہو لیکن کرکٹ دیکھنے والے خوش نہیں ہیں۔
گواہاٹی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ریکارڈ 406 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے بعد پورا بھارت شاید اس وقت خوشیاں منا رہا ہو، لیکن کرکٹ کو گہرائی سے دیکھنے اور سمجھنے والے لوگ اس جیت پر بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ ان کرکٹ دیکھنے والوں میں کوئی اور نہیں، بلکہ خود بھارت کے موجودہ ہیڈ کوچ اور دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی گوتم گمبھیر شامل ہیں۔ انہوں نے ٹیم کی اس تاریخی کامیابی کے باوجود انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ یہ کرکٹ نہیں تھی، یہ تو بیٹنگ تھی۔یہ بیٹ اور بال میں توازن نہیں ہے، ہمیں بولرز کے لیے کچھ مواقع پیدا کرنا چاہیے۔
گوہاٹی میں رنز کا سیلاب،ویسٹ انڈیز 405 رنز بنا کر بھی ہارگیا،5 سنچریاں،شبمان گل کی ڈبل سنچری
میچ ختم ہونے کے بعد بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے دوٹوک انداز میں پچ کی صورتحال پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کرکٹ نہیں ہے، یہ صرف بیٹنگ ہے، کیونکہ اس کھیل میں بیٹ اور بال کے درمیان کوئی توازن نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں ہر حال میں بولرز کے لیے کچھ مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ یہ آخر کیسی کرکٹ ہے کہ ایک ٹیم بورڈ پر 400 رنز بنائے اور دوسری ٹیم اسے اتنی آسانی سے عبور کر لے؟ یہ سب تماشائیوں اور ہجوم کے لیے بہت اچھا ہو سکتا ہے، براڈکاسٹرز کے لیے بھی بہت پیارا ہو سکتا ہے، لیکن اگر میں ایک نیوٹرل کرکٹ لور کے طور پر بات کروں اور بھارتی ہیڈ کوچ کی حیثیت کو ایک طرف رکھ دوں، تو یہ کھیل کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ بھارت کو بیٹ اور بال میں توازن برقرار کرنا ہوگا، کیونکہ ایسی پچز کرکٹ کے لیے اور آنے والے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کسی صورت موزوں نہیں ہیں۔ہمارے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، ون ڈے ورلڈ کپ کی حقیقی تیاری کی کوشش کا۔
جب گوتم گمبھیر سے کہا گیا کہ ورلڈ کپ میں ابھی ایک سال کا وقت باقی ہے اور بڑی اچھی تیاری ہو جائے گی، تو انہوں نے اس بات کا سخت جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ کہاں سے ایک سال باقی ہے؟ اس ایک سال میں سے تین مہینے تو آسٹریلیا کی سیریز میں گزر جائیں گے، اور تین مہینے آئی پی ایل کی نذر ہو جائیں گے۔ پیچھے صرف چھ مہینے رہ جائیں گے اور ہمارے پاس کھیلنے کے لیے صرف 20 ون ڈے میچز ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس تو وقت ہی نہیں ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ بہرحال پچوں پر بال اور بیٹ کا توازن پیدا کیا جائے اور ون ڈے ورلڈ کپ کی حقیقی تیاری کی کوشش کی جائے۔
بھارتی ہیڈ کوچ نے بھانڈا پھوڑ دیا، مخالف ممالک کو موقع مل گیا۔
بھارت کی موجودہ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی جانب سے آنے والی یہ کڑی تنقید واضح الفاظ میں بتاتی ہے کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے ملک میں ایسی پچز تیار کی ہیں جہاں اس کے کھلاڑی بڑے بڑے ریکارڈ بنائیں یا ناقابل شکست رہیں۔ لیکن آج اس ریکارڈ ساز فتح کے باوجود ان کے اپنے ہیڈ کوچ نے ایسا بھانڈا پھوڑا ہے کہ مخالف لوگوں کو بھارت پر انگلیاں اٹھانے کا ایک بہترین موقع مل گیا ہے، جن میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم اور پاکستان جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
بحیثیت ایک کرکٹ تجزیہ کار اور کرکٹ سے محبت کرنے والی ویب سائٹ کرک اگین کا اونر ہونے کے ناطے، میں بھی اس ہائی اسکورنگ میچ کو دیکھنے کے بعد بالکل خوش نہیں ہوا بلکہ شدید مایوس ہوا ہوں۔ میری مایوسی اس لیے نہیں کہ بھارت جیتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ 400 رنز بنانے والی ٹیم بھی میچ میں کوئی مقابلہ نہ کر سکی۔ جیسے بھی ہو، یہ کرکٹ نہیں تھی اور واقعی کرکٹ نہیں تھی۔ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو سلام ہے کہ انہوں نے بنا کسی خوف کے سچ بولا ہے۔
