لندن۔کرک اگین رپورٹ۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے بھی آئی سی سی کا بڑا فیصلہ۔کرکٹ بریکنگ نیوز
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کے میگا ایونٹس میں تبدیلیوں پر تبدیلی کر رہی ہے۔ پہلے اگلے سال ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں تبدیلی ایک سوالیہ نشان ہے اور اب آئی سی سی مینز ٹیم 20 ورلڈ کپ میں بھی ٹیموں کی تعداد مزید بڑھانے کا اصولی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ پہلے 24 ٹیمیں کی جائیں گی اور پھر 32 ٹیموں تک اس کی تعداد کو بڑھایا جائے گا اور یہ سب کچھ 2028 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے ممکن ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میٹنگز میں یہ چیزیں سامنے آئی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ متعدد ممالک کو مختصر فارمیٹ کے ایونٹ میں سامنے لایا جائے لیکن یہ دراصل ایک ایسی کہانی ہے جو سمجھنا ضروری ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں جب 24 ٹیمیں ہوں گی تو 4 ،4 ٹیموں کے 6 گروپس ہوں گے اور ہر گروپ سے دو دو ٹیمیں آگے جائیں گی ۔ پھر 12 ٹیموں کا سپر 12 ہوگا۔ اس سے اگلی ٹیمیں جیسے امریکہ،کینیڈا ،نیپال دیگر ہیں، ان کے لیے راہ آسانی کے ساتھ ہموار ہو گی۔
ون ڈے ورلڈ کپ فارمیٹ میں تبدیلی کیوں ہوئی
ائی سی سی کے ایسوسییٹ ممبر ممالک نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ہونے والی ایڈمرہ کی ائی سی سی میٹنگ میں ہمیں بالوں میں نہیں تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ون ڈے ورلڈ کپ فارمیٹ میں کوئی تبدیلی کرنے جا رہی ہے اور اس سے ہمیں خاصی مایوسی ہوئی ہے۔نئے فارمیٹ پر عالمی کرکٹرز ایسوسی ایشن ڈبلیو سی اے سمیت کافی اداروں سے تنقید ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دعویٰ کہ ہم کرکٹ کو رکن ممالک تک بڑھا رہے ہیں، ورلڈ کپ فارمیٹ کی تبدیلی اس کی نفی کرتی ہے۔
ون ڈے ورلڈ کپ فارمیٹ میں تبدیلی یہ ہے کہ آئی سی سی نے بظاہر تو ایونٹ کو 14 ٹیموں تک بڑھایا لیکن اب اگلے سال جو ٹورنامنٹ ہوگا، اس میں آخری نمبر کی چار ٹیموں کی ایک سپر سیریز کھیلی جائے گی اور اس میں دو ٹیمیں اسی وقت باہر ہو جائیں گی ۔دو ٹیمیں اگلی 10 ٹیموں کے ساتھ چھ چھ ٹیموں کے دو گروپ میں ہونگی۔ دونوں گروپ سے ٹاپ تین تین ٹیمیں سپر 7 میں ہونگی۔ 6 ٹیموں کا آگے آنا چاہیے لیکن سپر 7 کا نام دے کے ایک ساتویں ٹیم کی تخلیق کی گئی ہے اور وہ تخلیق کیسے ہوگی ۔دونوں گروپ سے تین تین ٹیمیں آخری مرحلے میں ہوں گی اور اس کے بعد ایک ٹیم دونوں گروپ میں جو بہترین سیڈنگ میں چوتھے نمبر پر فنش کرے گی۔ اسے لایا جائے گا۔ یہ کسی خاص ملک کو آگے لانے کی کوشش ہے، یہ کسی خاص روایتی ممالک کے درمیان ایک اور ون ڈے میچ کرانے کی کوشش ہے۔ اب یہ سوال بڑی تیزی کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے ۔براڈ کاسٹرز اور آئی سی سی دونوں پر گہرے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں کہ یہ پیسے کی کمائی کا ایک دھندہ ہے ۔ ون ڈے ورلڈ کپ فارمیٹ کی بہتری کا یہ نتیجہ ہے۔
ادھر اگر آئی سی سی کے یہ اقدامات دیکھے جائیں کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ فارمیٹ میں ٹیمیں بڑھا رہی ہے تو وہ کہہ سکتی ہے اگر ہم ایک فارمیٹ میں کم کر رہے ہیں تو دوسرے فارمیٹ میں ایسوسی ایٹ ممالک کو اگے لا رہے ہیں۔
