ہیڈنگلے،لیڈز۔کرک اگین رپورٹ۔اضافی تجزیہ۔حافظ محمد عمران عثمانی
لیڈز ٹیسٹ،پاکستان کی بدنام سے بدنام تر میں انٹری،بیٹنگ فلاپ،بلنڈرز کمال،انگلینڈ ٹاپ پر۔کرکٹ بریکنگ نیوز،تازہ ترین کرکٹ خبر اور تازہ ترین کرکٹ آرٹیکلز میں سے ایک ۔ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر اپنی روایتی بیٹنگ بدنامی میں کسی کو مایوس نہیں کیا۔ بدنامی سے بڑھ کر اب ایک یقین والی بات ہو گئی کہ جہاں پارٹنرشپ قائم ہوئی۔ وکٹ گری نہیں اور لائن لگی نہیں۔ ایسا دو بار ہوا ہے۔لیڈز کا پہلا ٹیسٹ، پہلا دن انگلینڈ کے نام ۔پاکستان کی اننگز 171 پر تمام اور انگلینڈ نے دو وکٹوں پر112 رنز بنا لیے ۔
پاکستانی ٹیم نے ایسے ہی مایوس نہیں کیا جیسے کہ وہ اپنے اس معاملے میں بہت بدنام ہے۔ یہ ایک بیٹنگ پچ تھی جس پہ بڑے اطمینان سے تین سو سے زائد رنز بن سکتے تھے۔ پچ کیوریٹر رچرڈ رابنسن نے کہا تھا کہ میں نے ایک سال میں پچ کو تبدیل کر دیا ہے، یہ وہی پچ ہے جہاں گزشتہ سال بھارت ٹاس ہارا تھا اور انگلینڈ نے بھارت کو کھلایا تھا اس نے 475 رنز بنائے تھے، حال ہی میں کاؤنٹی میچوں میں بھی 400 سے 500 رنز بنے۔ کپتان سلمان علی آغا نے اعتراف کیا کہ اگر وہ ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیتے، یعنی ہر طرف سے یہ واضح تھا کہ یہ بیٹنگ پچ ہے۔ تو ایک ایسی بیٹنگ پچ پر پاکستان کی ناکامی، ابتدا میں دو وکٹیں ضرور گریں لیکن پھر کیا تھا، 97 تک آپ سنبھل گئے تھے، اگلے 74 رنز میں آٹھ وکٹیں دے کے 171 پہ ڈھیر ہو جانا، یہ آپ کا یہی تو اصل تعارف ہے۔ اس میں کیا تبدیلی ہوئی ہے، اس میں کسی کو خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟دوسرا بلنڈر سعود شکیل نے مارا جب وہ ایل بی ڈبلیو دے دیے گئے۔ انہوں نے ریویو لینے میں اتنی تاخیر کر دی کہ وقت گزر گیا اور امپائر نے ریویو مسترد کر دیا۔ بعد میں جب ٹی وی ٹیکنالوجی سے پتا لگا تو وہ آؤٹ نہیں تھے۔ اگر وہ یہ فیصلہ مقررہ وقت میں کرتے تو پاکستان کا نقصان نہ ہوتا اور اسکور اس سے کچھ زیادہ ہوتا۔ بلنڈرز بھی ہیں، غلطیاں بھی ہیں اور معمول کی جو ہے نا وہی کوتاہیاں بھی ہیں، یہ ہے پاکستان کرکٹ۔ آئیے چلتے ہیں اس کی تفصیلات کی طرف۔
ائی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ کے سلسلے میں ہیڈنگلے لیڈز میں تین میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کی ٹاس کی جیت کے ساتھ شروع ہوا۔ پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت ملی۔ ابتدائی دو کھلاڑی 6 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔اذان اویس صفر پر گئے اور شان مسعود بڑی شان سے 5 رنز کے ساتھ پویلین پہنچ گئے۔ یہاں امام الحق اور عبداللہ شفیق نے مزاحمت کی اور 10 اوور تک سکور بمشکل 23 تک لے گئے تھے کہ بارش اگئی اور بارش اتنی طویل ہوئی کہ لنچ بریک پہلے کرنا پڑا ۔لنچ کا ٹائم ختم ہو گیا لیکن ایک گھنٹہ مزید دیر سے شروع ہوا تھا۔ انگلش بولرز کے گیند بازی میں بھی رکاوٹ آئی اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ رکا۔ امام الحق اور عبداللہ شفیق نے 28 اوورز تک اسکور کو 97 تک لے گئے۔ یہاں پاکستان بالکل سیٹ تھا کہ امام الحق اپنی غلطی سے بروک کیچ دے گئے ۔جوش ٹونگے بولر تھے۔ انہوں نے یہاں پہ 42 رنز بنائے۔ اس کے فوری بعد پاکستان کو جو اگلا نقصان ہوا وہ سعقد شکیل کا ہوا جو 25 گیندیں کھیلنے کے بعد صرف 5 رن بنا سکے۔ اولی رابنسن کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے ۔118 کے اسکور پر پاکستان کی پانچویں وکٹ عبداللہ شفیق کے گری۔ یہ سب سے بڑا نقصان تھا، جو سب سے بہتر کھیل رہے تھے۔ 104 گیندوں پر 61 رنز کیے۔ 8 چوکے لگائے۔ روبنسن کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے۔ یہاں بھی پاکستان کو کچھ معاونت اس وقت ملی جب سلمان علی آغا جو کپتانی کر رہے تھے اور محمد رضوان دونوں اسکور کو 150 تک لے گئے۔ کپتان سلمان علی آغا سے بڑی اننگز کی توقع تھی لیکن وہ 29 گیندوں پہ 21 رنز بنا کے بولڈ ہوئے۔ پاکستان کو اگلا نقصان بھی اسی سکور پہ ہوا، علی عثمان کا جو صفر پر گئے ۔محمد رضوان پع گہری ذمہ داری عائد تھی لیکن 159 کے مجموعی سکور پر وہ بھی ہمت ہار گئے۔ وہ ایل بی ڈبلیو ہوئے ٹنگے کے ہاتھوں۔ انہوں نے 12 سکور کیا۔ بس پھر پاکستان کی وکٹیں گرتی ہی چلی گئیں۔ 48.1 اوور میں پوری ٹیم 171 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی ۔
پاکستان بمقابلہ انگلینڈ،لیڈز میں ٹاس سے قبل ڈرامہ،اپ ڈیٹ اور پلیئنگ الیون
پاکستان کی تباہی کے مرکزی کردار تو صرف دو تھے اور انگلینڈ نے بائولرز بھی صرف چار ہی استعمال کیے۔ ظاہر ہے 48 اوور میں وہ کس کو موقع دیتے ۔ جوفرا آرچر اور اٹکنسن نے دونوں نے ملا کے 21 اوور کیے اور 66 رنز دیے ۔دونوں کو کوئی وکٹ نہیں ملی ،لیکن ان کے علاوہ ن میچ لوٹنے والے 2 ہی تھے ۔ اولی رابنسن نے 18 اوور کیے
51 رنز دے کے 5 کھلاڑی آؤٹ کئے۔جوش ٹنگے نے 9.1 اوور میں 46 رنز دے کے پانچ کھلاڑیوں کو ٹھیکانے لگایا۔
جواب میں انگلش بیٹنگ لائن کا آغاز زیادہ اچھا تو نہیں تھا لیکن برا بھی نہیں تھا ۔پہلا نقصان 36 کے مجموعے پہ انہیں اس وقت ہوا جب بین ڈکٹ 15 رنز بنا کر محمد عباس کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے اور دوسرا نقصان ایمیلوگے کا ہوا جو 33 رنز بنا کر محمد علی کا شکار بنے۔انگلینڈ کی ایک موقع پہ دو وکٹیں گر چکی تھیں اور اس کا مجموعی سکور 48 تھا اور 10 اوور ہوئے تھے لیکن اپ دیکھیں دن کا بقیہ حصہ جوئے روٹ اور جارڈن کوکس نے گزارا اور کھیل کے اختتامی لمحات تک مزید کوئی وکٹ نہیں گرنے دی۔ اانگلینڈ نے پہلے دن کے اختتام تک دو وکٹوں کے نقصان پر25 اوورز میں 2 وکٹ پر 112 رنزبنالئے تھے۔جوئےروٹ 37 اور جارڈن کاکس 23 پر تھے۔عباس اور علی نے ایک ایک وکٹ لی۔
انگلینڈ پاکستان سے صرف 59 رنز پیچھے ہے۔8 وکٹیں باقی ہیں۔
