ڈھاکا۔کرک اگین رپورٹ۔بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز،تاریخ پاکستان کے تعاقب میں،بھلانے کی تمنا مگر نیا سکرپٹ تیار۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز جمعہ 8 مئی سے ہورہا ہے۔یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔پاکستان 2024 کی آخری سیریز اپنے ہی ملک میں 0-2 سے ہارچکا ہے۔یہ تاریخ ہے اور ماضی قریب کی تاریخ۔اگست کے آخر اور ستمبر 2024 کے شروع میں 10 وکٹ اور 6 وکٹ کی شکست اس کے نام نہاد کپتان شان مسعود کے سینے پر ایسا تمغہ ہے جس کی چمک سے آج بھی وہ کپتان ہیں۔ایسے تمغوں ووالے ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔پاکستان کرکٹ کی بد ترین تاریخ میں اس سیریز کے نتائج اگلی سیریز پر بھی پڑے اور پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ(ڈبلیو ٹی سی ) میں 9 ویں اور آخری نمبر کا میڈل لیا جو آج بھی آئی سی سی ہسٹری میں نمایاں ہے۔اس سیریز کے 2 ٹیسٹ میچز میں کپتان شان مسعود 6،14 اور پھر 57 اور 28 رنز کرسکے تھے۔
جاری ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی یہ دوسری سیریز ہے اور ابھی شروعات ہیں۔ماضی کی طرح یہ شروعات بھی بتائیں گی کہ یہ کتنے پانی میں ہیں۔ایک ناکام پیسر شاہین آفریدی جسے 2024 میں ایک ٹیسٹ کے بعد ڈراپ کیا گیا تھا کیونکہ اس کی 2 وکٹیں تھیں۔اب قریب 2 برس بعد بھی شکست خوردہ کپتان اور اس کی ٹیم کا صف اول کا پیسر کچھ یوں دکھایا گیا ہے کہ سیریز کے آغاز سے چند گھنٹے قبل اسے پریس کانفرنس کیلئے بھیجا گیا ہے۔بدھ کو انہوں نے ایسی باتیں کیں جیسے ان کے کریڈٹ میں 88 ٹیسٹ میچز میں 362 ٹیسٹ وکٹیں ہوں یا وہ وسیم اکرم سے بھی بڑا لیفٹ آرم پیسر ہو۔
شاہین کی باتیں
پاکستان کے تیز گیند باز شاہین آفریدی نے بھی2024 ناکامی جذبات کی بازگشت کی۔کہتے کہ ۔ماضی ماضی ہے۔ ذاتی طور پر میں اس پر نہیں رہنا چاہتا۔مزید کہا کہ ہمارا مقصد حال اور مستقبل پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ہم صرف ایک سیریز نہیں بلکہ چیمپئن شپ جیتنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بطور ٹیم ہمارے بڑے اہداف ہیں اور ہم تیار ہیں۔
بنگلہ دیش ہیڈ کوچ کی سوچ
بنگلہ دیش کے ہیڈ کوچ فل سمنز نے بدھ کو شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 2024 میں پاکستان کے خلاف ان کی ٹیم کی تاریخی ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ یہ اب تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پھر کیا ہوا۔ ہاں، آپ اسے اپنے ذہن میں رکھیں کیونکہ اس سے آپ کو حوصلہ ملتا ہے لیکن یہ ایک نیا کھیل اور ایک نئی جگہ ہے۔ہم اب بنگلہ دیش میں ہیں پاکستان میں نہیں۔ ہمیں ان چیزوں کو اپنے پیچھے رکھنا ہے اور جمعہ پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔
تاریخ یہ ہے کہ پاکستان نے جب بنگلہ دیش کے خلاف اکتوبر 2024 میں سیریز کھیلی تھی،وہ قریب 9 ماہ بعد تھی۔اس سے قبل کی آخری سیریز آسٹریلیا میں سال کے شروع میں ہاری تھی۔اب اس سائیکل میں پاکستان نے آخری سیریز اکتوبر 2025 میں جنوبی افریقا کے خلاف کھیلی۔1-1 سے ڈرا تھی۔مطلب جیتی نہیں۔اب بھی 9 ماہ بعد قریب پاکستان یہ سیریز کھیل رہا ہے۔بنگلہ دیش سے 2024 کی سیریز کے بعد پاکستان نے مزید 3 سیریز انگلینڈ،جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی تھیں۔ایک جیتی۔ایک ہاری۔ایک ڈرا تھی۔اب رواں سیزن میں پاکستان کی 6 میں سے یہ دوسری سیریز ہے۔بنگلہ دیش ے بعد پاکستان نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز میں 2 سیریز،اس کے بعد ہوم میدانوں میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف 2 سیریز کھیلنی ہیں۔
کپتان شان مسعود ہیں۔بائولنگ اٹیک وہی ہے۔سپنرز اولڈ از گولڈ کے فارمولہ پر ہیں۔بیٹنگ لائن واجبی سی ہے۔بنگلہ دیش کو ہوم ایڈوانٹیج ہے۔کوئی ایک ٹریک ایک ٹیسٹ بھی چھین سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی بڑی ناکامی ہوگی۔پرانے نتائج تعقاب میں ہیں۔کردار بھی پرانے ہیں۔نئی تاریخ پر وہی اثرات پڑسکتے ہیں۔پاکستان شاہین کے ساتھ عباس کے ساتھ جائے گا لیکن محمد عباس خود ایک تاریخ ہیں اور شاہین حال کی ناکام کہانی۔
