برمنگھم ۔کرک اگین رپورٹ ۔
پاسپورٹ کہانی،رضا اللہ نے چھت پھاڑ دی،سنسنی خیز انکشافات
کرکٹ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ڈیبیو اسٹار رضا اللہ کا پاسپورٹ تنازع پر بڑا انکشاف، پریس کانفرنس میں جھوٹی خبروں کی حقیقت کھول دی۔کرکٹ کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایج باسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف 81 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر پاکستان کو میچ میں واپس لانے والے نوجوان آل راؤنڈر رضا اللہ خان نے اپنے پاسپورٹ اور موبائل رابطے سے متعلق میڈیا پر چلنے والی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
میچ کے بعد سینئر فاسٹ بولر محمد عباس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جب رضا اللہ سے پہلا سوال ان کے پاسپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ایسا ہرگز نہیں تھا بلکہ میرا پاسپورٹ تو ایک سال قبل ہی بن چکا تھا۔ بعد میں جب برطانوی میڈیا نے اردو نہ سمجھ آنے کے باعث یہی سوال انگریزی میں دہرایا، تو محمد عباس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے انگریزی میں واضح کیا کہ رضا اللہ کا پاسپورٹ ایک سال پہلے ہی تیار ہو چکا تھا۔ اس وضاحت کے بعد پاکستانی میڈیا کے ان مبینہ تھنک ٹینکس اور خبریں چلانے والوں کی سنگین غلطی بے نقاب ہو گئی ہے جو یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ رضا اللہ کا پاسپورٹ ہی نہیں بنا اور ان سے موبائل پر رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا۔کرک اگین نے ایسی نیوز دینے سے اجتناب کیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران رضا اللہ نے اپنی اچانک سلیکشن کی دلچسپ کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ میں گھر پر سویا ہوا تھا جب صبح کے وقت مجھے کال آئی کہ فوری طور پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور پہنچیں۔ میرے ذہن میں تھا کہ مجھے شاید ایشین گیمز کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے، لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مجھے ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے انگلینڈ جانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو میرے رابطے میں کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی کسی کو مجھ سے بات کرنے میں کوئی دباؤ تھا، بلکہ چند دنوں کے اندر سب کچھ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ہوا اور میں انگلینڈ پہنچ گیا۔ جوفرا آرچر سمیت انگلش پیس اٹیک پر جارحانہ حملے کے سوال پر رضا اللہ کا کہنا تھا کہ میں یہ سوچ کر میدان میں اترا تھا کہ انگلینڈ کی کنڈیشنز جیسی بھی ہوں، میں فرنٹ فٹ پر آ کر اٹیک کروں گا اور اسی حکمتِ عملی کا مجھے فائدہ ہوا۔ انہوں نے مانا کہ ڈیبیو پر سنچری نہ بنانے کا دکھ ضرور ہے، لیکن مستقبل میں دوبارہ موقع ملنے پر وہ یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ کا ایک دلچسپ قصہ سناتے ہوئے رضا اللہ نے بتایا کہ ماضی میں ایک گھریلو میچ کے دوران جب ہماری ٹیم فالو آن کا شکار تھی، تو میں نے پچھلی اننگز میں پچاس رنز بنانے کی بدولت اپنے کوچ سے خود اوپننگ پر جانے کی اجازت مانگی تھی اور وہاں جا کر سنچری اسکور کی تھی۔ جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس ٹیسٹ میچ میں بھی کوچز سے اوپر بیٹنگ کی فرمائش کی تھی؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ میرا پہلا ٹیسٹ میچ تھا، میں بھلا کیسے ایسی فرمائش کر سکتا تھا، البتہ مستقبل میں اگر موقع ملا تو اوپر کھیلنے کی بات ضرور کروں گا۔
رضا اللہ 149 سالہ ٹیسٹ ہسٹری بدل گئے،ریکارڈز،برطانیہ سمیت متعدد ممالک سے تازہ ترین تبصرے
دوسری طرف محمد عباس نے اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا مجھے بہت فائدہ ہوا ہے اور اب میں بولنگ کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹنگ پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہوں تاکہ پاکستان کرکٹ کے لیے دونوں شعبوں میں بہترین کردار ادا کر سکوں۔میچ کے چوتھے دن اور انگلینڈ کو ملنے والے 130 رنز کے ہدف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد عباس نے انتہائی پرعزم انداز میں کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا اور یہاں کسی بھی وقت بازی پلٹ سکتی ہے۔ دنیا اس وقت انگلینڈ کو ملنے والے محض 130 رنز کے آسان ہدف کو دیکھ رہی ہے، لیکن بطور ٹیم ہمارا ہدف بالکل واضح ہے کہ ہمیں جو موقع ملا ہے ہم اس کا فائدہ اٹھائیں اور انگلش ٹیم کو اس ہدف سے پہلے ہی آؤٹ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ چوتھے دن پاکستانی بولرز انگلینڈ کے خلاف پورا زور لگائیں گے کیونکہ کرکٹ میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔
