عمران عثمانی
سسٹم بدلنے کا دباؤ یا تباہی کا سفر؟ پورٹ آف اسپین میں 4 بڑی تبدیلیاں اور کھچڑی پلس نظام کا المیہ۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہی ہوگی پورٹ آف اسپین کے تاریخی کوئینز پارک اوول میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے ٹاس کے موقع پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ اور کپتان بابر اعظم نے ایک ایسا عجیب و غریب اور حیران کن فیصلہ کیا جس نے کرکٹ حلقوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ پہلا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد ٹیم میں کم بیک کرنے کے لیے جس جارحانہ اور پائیدار حکمتِ عملی کی ضرورت تھی، مینجمنٹ نے اس کے برعکس الٹا اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہوئے پلائینگ الیون میں چار بڑی تبدیلیاں کر ڈالیں۔
میچ اپ ڈیٹ۔دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لنچ کے بعد تک ویسٹ انڈیز نے 2 وکٹ پر 78 رنزبنالئے تھے
اس میچ میں خرم شہزاد، عامر جمال، محمد عباس اور سابق کپتان شان مسعود جیسے سینیئر کھلاڑیوں کو یکسر ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ٹیم میں عبداللہ شفیق اور اسپنر ساجد خان کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ دو نوجوان کھلاڑیوں عبید شاہ اور اویس ظفر کو براہِ راست ٹیسٹ کیپ دے کر انٹرنیشنل کرکٹ کے گہرے سمندر میں دھکیل دیا گیا ہے۔
تھنک ٹینک کی سفاکی اور ایک دردناک منظر
ذرا پی سی بی کے تھنک ٹینک کی سفاکی کا اندازہ کیجیے! ابھی تین دن پہلے جس محمد عباس نے حریف ٹیم کی 8 وکٹیں اڑائیں، وہ دوسرے ٹیسٹ سے باہر کھڑا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ اسی ڈراپ ہونے والے سینیئر بالر کو انتظامیہ نے حکم دیا کہ وہ نئے کھلاڑی کو ٹیسٹ کیپ پہنائے۔ محمد عباس نے پتا نہیں کس دل کے ساتھ اور کن جذباتی مراحل سے گزر کر جونیئر عبید شاہ کو ڈیبیو کیپ پہنائی ہوگی۔ یہ ایک ایسا کلاسک منظر تھا جسے دیکھ کر ہر کرکٹ پریشان رہ گیا۔ دوسری طرف اویس ظفر کو خود بابر اعظم نے ڈیبیو کیپ دی۔ ڈیبیو کرنے والے ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ٹیم مینجمنٹ اور ساتھی کرکٹرز نے نیک خواہشات کا اظہار تو کیا ہے، لیکن سینیئرز کو اس بے دردی سے ڈراپ کر کے جونیئرز پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے، اس کا جواب اب پورٹ آف اسپین کا میدان ہی دے گا۔ سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ اور یہ کپتان آخر کس لائن پر چل رہے ہیں۔
جن فاسٹ بولرز کو ہیروں کا تاج بنا کر ٹور پر لے جایا گیا، انہیں اہم ترین میچ میں میدان سے باہر بٹھا دیا گیا۔ کہتے ہیں سر منڈواتے ہی اولے پڑ گئے، ٹاس کے وقت پاکستان کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ایک طرف ہم نے اپنی فاش سلیکشن سے خود کو پہلے ہی کمزور کر لیا تھا، تو دوسری طرف قسمت نے بھی دغا دے دیا اور ہم اہم ترین ٹاس ہار گئے۔ پہلے میچ کی طرح یہاں بھی ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر لیا۔ ویسٹ انڈیز نے کریز پر سنبھل کر اننگز کا آغاز کر دیا ہے اور تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق وہ بغیر کسی نقصان کے 2 رنز بنا چکے ہیں۔
اگر ٹیم مینجمنٹ کا یہ عذر مان بھی لیا جائے کہ پچ انتہائی سست اور اسپنرز کے لیے سازگار ہے جس کی وجہ سے محمد عباس کی جگہ ساجد خان کو کھلایا گیا، تو پھر ٹاس ہارنے کے بعد تو ہم میچ سے پہلے ہی آدھے باہر ہو گئے۔ سب جانتے ہیں کہ چوتھی اننگز میں ایسی پچز پر بیٹنگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور وہ اسپنرز کے لیے جنت بن جاتی ہیں۔ ٹاس ہارنے کے بعد پاکستان اب مکمل طور پر بیک فٹ پر آچکا ہے۔
اعلیٰ حکام کا نظام نہیں چل سکتا تو کرکٹ کا یہ سسٹم کیسے چلے گا
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے والی ویسٹ انڈین ٹیم بیوقوف ہے؟ انہوں نے پچ کو دیکھ کر کوئی رال نہیں ٹپکائی اور اپنی فاتح ٹیم میں ایک تبدیلی کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ ان کا وہی بولنگ اٹیک کھیل رہا ہے جس نے پہلے ٹیسٹ میں ہماری بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑائی تھیں۔ میزبان ٹیم کا اپنے بالنگ اٹیک پر اعتماد پکا ہے، جبکہ ہماری مینجمنٹ نے ایسے فیصلے کیے جیسے پچ ویسٹ انڈیز نے نہیں بلکہ ہم نے خود تیار کی ہو۔
دوسرا ٹیسٹ،4 تبدیلیاں،قیمتی ٹاس میں شکست
محمد عباس بھلے ہی آج کل ریگولر سلیکٹ نہ ہو رہے ہوں، لیکن اپنی عمر اور وکٹوں کے لحاظ سے وہ اس وقت اسکواڈ کے سب سے تجربہ کار بالر ہیں۔ کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب پاکستان کی عظیم ٹیمیں کھیلتی تھیں، تو کیا کبھی کسی نے سنا کہ پچ اسپننگ ہونے کی وجہ سے وسیم اکرم، وقار یونس یا شعیب اختر کو باہر بٹھا دیا گیا ہو؟ یا پچ فاسٹ ہونے کی وجہ سے صفِ اول کے اسپنرز سکلین مشتاق اور مشتاق احمد کو ڈراپ کر دیا گیا ہو؟ عظیم کھلاڑی ہر پچ پر اپنی مہارت سے وکٹیں نکالتے ہیں۔ آخر یہ کون سے لوگ آ گئے ہیں اور یہ ہمیں کون سی کرکٹ سمجھا رہے ہیں اور دکھا رہے ہیں؟
سسٹم کا بوجھ، بے اختیار کپتانی اور تباہی کا سفر
کالم کے آخر میں تصویر کا ایک اور رخ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بابر اعظم نے بھی اب بالا حکام کا وہ روایتی جملہ سن لیا ہے کہ “یہ سسٹم اب مزید ایسے نہیں چلنے لگا، نظام اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتا”۔ شاید اسی دباؤ کے تحت انہوں نے سوچا کہ چلو سب کچھ نئے سرے سے، بالکل صفر سے شروع کرتے ہیں اور یہ کمال فیصلہ سنا دیا۔ لیکن ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بابر اعظم آج جس پوزیشن میں دوبارہ کپتان بنے ہوئے ہیں، ان کے پاس اب وہ اختیارات اور خود مختاری سرے سے موجود ہی نہیں جو چار سال قبل ان کی پہلی کپتانی کے دور میں ہوا کرتی تھی۔
یہ جو ہوش ربا فیصلے نظر آ رہے ہیں، یہ اکیلے کپتان کے نہیں بلکہ پوری ٹیم مینجمنٹ کے ہیں، جس میں6 سے زائد افراد کی آراء, مرضی اور مصلحتیں شامل ہیں۔ اس میں شامل سرفراز احمد،اسد شفیق وہاں ویسٹ انڈیز میں ہیں۔عمر گل بائولنگ کوچ بھی ہیں۔سب کی منطقی رائے بڑی اتفاق رائے سے آگے نافذ ہوئی ہے۔سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصلحتوں اور پے در پے تبدیلیوں پر مبنی یہ کھچڑی پلس نظام پاکستان کرکٹ کو بہتری کی طرف لے جا رہا ہے یا اس کی مکمل تباہی کا سبب بن رہا ہے؟ جب تک فیصلوں میں دور اندیشی کے بجائے خوف اور بیرونی دباؤ شامل رہے گا، پاکستان کرکٹ کے پاؤں تلے سے زمین سرکتی رہے گی اور پورٹ آف اسپین کا میدان اس کا پہلا گواہ بننے جا رہا ہے۔
