کرک اگین رپورٹ۔نقوی بھارت جائیں گے یانہیں،ڈبلیو ٹی سی تنظیم نو پر بڑا مسئلہ درپیش،اہم اپ ڈیٹس۔کرکٹ بریکنگ نیوز ہے کہ آئی سی سی بورڈز میٹنگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی عملی شرکت کے امکانات معدوم ہیں۔انہیں ویسے بھی صرف آئی سی سی بورڈز میٹنگ کا دعوت نامہ ملا ہے۔آئی پی ایل فائنل کا نہیں،اس لئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ محسن نقوی آن لائن میٹنگ میں شریک ہونگے۔
اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کو احمد آباد میں 31 مئی کو ہونے والے آئی پی ایل فائنل کے لیے مدعو کیا گیا ہے، لیکن کرک بز ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ دعوت صرف آئی سی سی بورڈ کی میٹنگ کے لیے ہے اور نقوی کے بھارت کا دورہ کرنے کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے بجائے نقوی سے بورڈ میٹنگ میں ورچوئل پر شرکت کی توقع ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کی تنظیم نو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر چھوڑی جا سکتی ہے، اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ چیف ایگزیکٹوز کمیٹی (سی ای سی)، جو 21 مئی کو عملی طور پر میٹنگ کرے گی، اس معاملے کو اٹھائے گی۔ سی ای سی میٹنگ کے ایجنڈے میں مردوں کی کرکٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تاہم کچھ تجارتی معاملات کے علاوہ خواتین کی کرکٹ سے متعلق ایک آئٹم ہے اور ڈیٹا منیٹائزیشن اور موبائل گیمنگ شامل ہیں۔
آئی سی سی میٹنگ احمد آباد میں سیٹ،محسن نقوی کی شرکت پر سوالیہ نشان،ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ایجنڈا اہم
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ معاملہ بورڈ پر چھوڑا جا رہا ہے، جس کا اجلاس 30 اور 31 مئی کو احمد آباد میں ہوگا،۔ راجر ٹوز کے تحت ورکنگ گروپ کی سفارشات پر کوئی بھی فیصلہ تمام طاقتور ڈائریکٹرز لیں گے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ورکنگ گروپ نے سائیکل میں آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے کو شامل کرنے کی سفارش کی ہے اور یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ایک ٹیسٹ سیریز کو چیمپئن شپ کے حصے کے طور پر شامل کیا جائے۔اس کے پیش نظرسفارشات کو اپنانا مشکل دکھائی دیتا ہے، بنیادی طور پر اس لیے کہ اس سے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جو کچھ عجیب لگ سکتے ہیں۔ افغانستان جو اس وقت آسٹریلیا، انگلینڈ اور حال ہی میںیہاں تک کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ طور پر مصروف نہیں ہے۔وہ نسبتاً کمزور فریقوں کے خلاف واحد ٹیسٹ کھیل کر فیصد پوائنٹس کے نظام کے ذریعے ٹیبل میں اوپر آسکتا ہے۔دوسری ٹیمیں جیسے کہ بنگلہ دیش، آئرلینڈ اور زمبابوے کو وہ ہرادے تو کیا ہوگا۔ ۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
دو درجاتی ٹیسٹ منصوبہ ختم،12 ٹیمیں،سنگل میچ سیریز،جوابی دورے ختم،پاکستان کے انگلینڈ میں 5 ٹیسٹ
